پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سپریم کورٹ میں قواعد،طریقہ کار میں تبدیلی کا بل سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور بل کے حق میں 60، مخالفت میں 19 ووٹ پڑے, پی ٹی آئی سینیٹرز نے سخت مخالفت کی

اسلام آباد (پی پی آئی)سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹسز اینڈ پروسیجر بل 2023 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے بل کے حق میں 60 جب کہ مخالفت میں 19 ووٹ پڑے۔ سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹسز اینڈ پروسیجر بل 2023 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے بل کے حق میں 60 جب کہ مخالفت میں 19 ووٹ پڑے۔اس سے قبل سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پیش کیا۔حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی پی ٹی ا?ئی سینیٹرز نے سخت مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ بل سینیٹ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔پپی ٹی آئی کے سینیٹرز کے مطالبے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور طریقہ کار بل 2023 کمیٹی کو بھجوایا جائے، جس پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے بل کو کمیٹی میں بھجوانے کے بجائے آج ہی منظور کیا جائے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ا?ئین کے تحت پارلیمان کا اختیار ہے کہ وہ قانون سازی کرے، وقت کے ساتھ مختلف ادوار اور رویوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور وقت کیساتھ عوام کی ضرورتوں کے مطابق قانون میں تبدیلی کی گنجائش رکھنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں سوموٹو کے بیدریغ استعمال سے اربوں ڈالر کے نقصان اٹھائے گئے۔ خود سپریم کورٹ کے اندر سے ا?واز ا?ئی کہ یہ فرد واحد کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے 17 ججز سب برابر ہیں، شخصیت کے بجائے نظام کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ ادارہ ڈیلیور کر سکے۔ان کا کہنا تھا کہ بل کیتحت چیف جسٹس کے ساتھ دو سینئر ترین جج سوموٹو لینے ک افیصلہ کریں گے، قومی اسمبلی میں یہ بل بحث کے بعد منظور ہوا، آرٹیکل 10اے فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔