ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی پہلی قائم مقام چیف جسٹس مقرر،آج حلف اٹھائیں گی

پشاور (پی پی آئی) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائی کورٹ کی سینیئر جج مسرت ہلالی کو یکم اپریل سے بطور قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جو نیا اعلامیہ آنے تک غیر معینہ مدت کے لیے اس عہدے پر اپنے فرائض انجام دیں گی۔30 مارچ جمعرات چیف جسٹس قیصر رشید اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے، جس کے بعد سینیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر موجود جسٹس روح الامین 31 مارچ کو ایک دن کے لیے چیف جسٹس بنے ہیں اور پھر یکم اپریل کو مسرت ہلالی عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔ جسٹس مسرت ہلالی تقریباً دو دہائیوں سے پشاور ہائی کورٹ کے ساتھ منسلک ہیں اور اس دوران انہوں نیکئی تاریخی اور شاندار فیصلے کیے۔’ایک تاریخی کام انہوں نے 2022 میں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی سیکشن دس کے بارے میں کیا، جس میں انہوں نے پاکستان کی خواتین کو غیر ملکی شہری سے شادی کی صورت میں ان کے شوہر کو پاکستانی سٹیزن شپ دینے کا اختیار دیا۔’اس سے قبل پاکستان میں صرف مردوں کو اجازت تھی کہ اگر وہ کسی دوسرے ملک کی خاتون سے شادی کرتے تو اس خاتون کو پاکستان کی شہریت مل جاتی تھی۔’مسرت ہلالی کے اس فیصلے نے فیملی سسٹم کو بچایا، کیوں کہ اس سب کے بیچ جہاں میاں بیوی اکھٹے نہیں ہوسکتے تھے، وہیں ان کے بچے بھی رْل رہے تھے۔ اس کے بعد سے کئی خواتین جن کے شوہر ایران، افغانستان، فلسطین اور دوسرے ممالک میں تھے، وہ ایک ہوئے۔‘