پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں، صرف جنگل کا قانون ہے:عمران خان

لاہور(پی پی آ ئی) پی ٹی آئی چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں اب مکمل فسطائیت پھیلی ہوئی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح سے ہم بنانا ری پبلک بننے جا رہے ہیں، پاکستان میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے اور صرف جنگل کا قانون ہے، یہ واضح ہے دہشت گردی کے اس دور کو پی ڈی ایم کی کٹھ پتلیوں نے نہیں بلکہ ایک اور طاقت کے ذریعے کنٹرول کیا ہے جو خود کو مکمل طور پر قانون سے بالاتر دیکھتی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور بعد میں دھوکہ دہی کی ایف آئی آر درج کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ایک ایف آئی آر میں ضمانت مل جاتی ہے، دوسری ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے۔ میرے خلاف 145 سے زائد ایف آئی آر درج ہیں۔ یہ ایف آئی آرز کا سرکس ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا بنی گالہ کا نگراں، زمان پارک کا باورچی، سوشل میڈیا کے اظہر مشوانی، وقاص اور میرے سیکیورٹی انچارج گھمن، سب کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے کا کہا گیا۔عمران خان نے لکھا کہ علی امین گنڈا پور کو ایک دھوکہ دہی کے مقدمے میں ضمانت مل گئی، ایک اور ایف آئی آر سامنے آئی، پولیس اسے لاہور لے گئی۔ راستے میں اسکے بیمار پڑنے، ہسپتال لے جایا گیا اور صحت یاب ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکال دیا گیا، ملک میں اب مکمل فسطائیت پھیلی ہوئی ہے۔