خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان کی نصف آبادی کاجادو ٹونے پر اعتقاد، پنجاب سب سے زیادہ توہم پرست

کراچی (پی پی آئی) پاکستان کی تقریباً نصف آبادی جادو ٹونے پر یقین رکھتی ہے۔تحقیقاتی ادارے پائیڈ کی عقائد سے متعلق دلچسپ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ پاکستان کی دیہات میں 55اعشاریہ 7فیصد لوگ،شہری علاقوں میں، 45فیصدجادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں،جادو ٹونا پر سب سے زیادہ اعتقاد صوبہ پنجاب کے لوگوں کا ہے جس کی شرح56اعشاریہ 5 فیصد جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ ہے جہاں کی 55اعشاریہ 7فیصد آبادی توہم پرست ہے، پی پی آئی کے مطابق سب سے کم یقین کے پی کے میں کیا جاتا ہے جہاں اس کی شرح 18اعشاریہ 5فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق گلگت کے 29اعشاریہ 7 فیصد اور آزادکشمیر کے 38اعشاریہ 3فیصد لوگ جادوٹونا پر یقین رکھتے ہیں جب کے حیران کن طور پروفاقی دارالحکومت کے37اعشاریہ 5فیصد لوگ بھی جادوٹونا پریقین رکھتے ہیں۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ جادوٹونا پر یقین کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم میں اضافے کے ساتھ جادوٹونا پر یقین کی شرح کم تصور کی جاتی ہے لیکن حیران کن طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں اس شرح میں کچھ اضافہ دیکھا گیا،38اعشاریہ 4فیصد ناخواندہ افراد جادوپر یقین رکھتے ہیں جبکہ گریجویشن اور اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے والے افراد میں یہ شرح33اشاریہ 7فیصد ہے رپورٹ میں ایک دلچسپ بات یہ بھی دیکھی گئی کہ بڑھتی ہوئی آمدن کے ساتھ بھی جادوٹونا پر یقین میں اضافہ دیکھا گیا۔کم آمدنی والے 33اشاریہ 6فیصد افراد جادوٹونا پر یقین رکھتے ہیں زیادہ آمدنی والے افراد میں جادوٹونا پر یقین کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ 38اشاریہ 7فیصد تک دیکھا گیا ہے، تحقیقات معروف ریسرچر ڈاکٹر درنایاب نے کی جنہوں نے سروے میں تقریبا 20 ہزار لوگوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔