کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی کابینہ کا اجلاس قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق، ایران سے تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے جبکہ ایران کے ساتھ مختلف شعبوں پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ ارکان کو دورہ ایران سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیر اعظن نے کہا کہ ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، 900 کلومیٹر طویل پاک،ایران سرحد پر سکیورٹی میں مزید بہتری لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران سے کم لاگت بجلی کی درآمد سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران کا دورہ کرے گا تاکہ اِن امور پر ٹھوس پیش رفت ہو۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو سعودی عرب کے ساتھ منگل کے روز دستخط کیے گئے ’روڈ ٹو مکہ‘ معاہدے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جس سے پاکستانی حجاج کی کثیر تعداد مستفید ہو سکے گی۔ اس معاہدے کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ سے 26143پاکستانی حجاج کی امیگریشن کا عمل اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی ہوگا اور وہ سعودی ایئرپورٹ پر لمبے انتظار سے بچ جائیں گے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کل سے شروع ہو چکا ہے۔وفاقی کابینہ نے روالپنڈی میں انشورنس ٹریبونل قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ اس نئے ٹریبونل پر کوئی اضافی اخراجات نہیں آئیں گے بلکہ موجودہ احتساب عدالت نمبر چار کو انشورنس ٹریبونل میں تبدیل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے رائے دی کہ فوجی املاک کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلایا جائے جبکہ سول املاک کا ٹرائل سول عدالتوں میں چلایا جائے، جن شہروں میں فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے فوجی عدالتیں وہیں پر قائم کی جائیں۔