دنیا بھر کی 20لاکھ اور پاکستان میں سالانہ 4سے5 ہزار خواتین فیسٹولا کے باعث تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور

کراچی(اسٹاف رپورٹر)عالمی یوم خاتمہ آبسٹیٹرک فسٹیولا2023کے موقع پر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہین ظفر، گائناکالوجسٹ، کوہی گوٹھ ویمن ہسپتال،•ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، سوسائٹی آف اوبسٹیٹریشین اینڈ گائناکالوجسٹ آف پاکستان،ڈاکٹر ثنا اشفاق، فسٹولا سرجن، کوہی گوٹھ خواتین ہسپتال، مسز شیما کرمانی، تحریک نسواں،محترمہ نیہا ملکانی، مڈوائفری ایسوسی ایشن پاکستان اور ڈاکٹر عبدالغفور شورو، سیکرٹری جنرل، پی ایم اے سینٹرل نے کہا کہ یہ بیماری زچگی کے دورانیے کا طویل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور دوران زچگی بچے کے پھنس جانے کی وجہ سے پیشاب اور بسا اوقات پاخانے کی تھیلیوں میں سوراخ ہو جاتا ہے جس سے مسلسل پیشاب اور پاخانہ بہتا رہتا ہے ہزاروں عورتیں ہر سال اس شرمناک بیماری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ جاتی ہیں اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور تقریباً 20لاکھ خواتین دنیا بھر میں اس موزی مرض کا شکار ہو کر معاشرے سے علحید گی پر مجبور ہو جا تی ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 4سے5 ہزار خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں جس کی بنیادی وجہ معاشرتی نا ہمواری، فرسودہ رسم و رواج، غربت، تعلیم کی کمی، فیملی پلاننگ سہولتوں کی عدم دستیابی، تربیت یافتہ صحت کے کارکنوں کی کمی اور علاقائی سطح پر بنیادی سہولتوں کا نا پید ہونا شامل ہیں۔پاکستان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے فسٹیولا کی بھی پائی جاتی ہے جوکہ جراحی کے دوران بن جاتا ہے۔ڈاکٹر شاہین ظفر،،ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، ڈاکٹرثنا اشفاق، شیما کرمانی، نیہا ملکانی،ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ اس سال فسٹیولا ڈے کی تھیم یہ ہے کہ20 سال سے کوششیں جاری ہیں لیکن ناکافی! 2030 تک فسٹیولا کے خاتمے کے لیے ابھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ٖفسٹیولا کا خاتمہ صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے ممکن ہے۔ڈاکٹر شاہین ظفر،،ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، ڈاکٹرثنا اشفاق، شیما کرمانی، نیہا ملکانی،ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے توقع ظاہر کی کہ پرنٹ،الیکٹرونک اور ڈیجیٹل و دیگر ذرائع ابلاغ بیماری کی آگہی اور خاتمہ کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کوبروکار لائیں گے۔ ڈاکٹر شاہین ظفر،،ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، ڈاکٹرثنا اشفاق، شیما کرمانی، نیہا ملکانی،ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے بتایا کہ اقوام متحدہ دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک میں موجود بیماریوں اور معاشرتی مسائل کو اُجاگر کرنے کے لئے ایسے بین الاقوامی دن منعقد کرتی ہے تاکہ لوگوں میں ان بیماریوں سے بچنے کا شعور اُجاگر کیا جا سکے۔انٹر نیشنل فسٹیولا ڈے کا انعقاد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا بنیادی مقصد ” فسٹیولا میں مبتلا عورتوں کی تلاش اور کامیاب علاج کے ذریعے ان کی زندگیوں کو بدلنا ہے“۔فسٹیولا کی بیماری بھی بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں بسنے والی عورتوں کی ایسی بیماری ہے جس سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا موثر علاج بھی ممکن ہے یہ بیماری بذات خوداس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معاشرے میں عورت کو برابری کا مقام حاصل نہیں ہے اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ اسی سلسلے میں 21نومبر 2012کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 23مئی کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے کے حوالے سے منانے کا اعلان کیا تھا تاکہ دنیا بھر میں ما و ں کی صحت کے حوالے سے آگاہی کو اُجاگر کیا جا سکے اور فسٹیولا جیسی مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ڈاکٹر شاہین ظفر،،ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، ڈاکٹرثنا اشفاق، شیما کرمانی، نیہا ملکانی،ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے سے وابسطہ تمام ادارے خصوصاً پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی اپنے تمام پالیسز، رجسٹریشن اور پوسٹ گریجوئٹ ٹریننگ کو ازسرنو مرتب کریں اور ایسے تمام ڈاکٹروں کو تنبیہ کی جائے جو اس طرح کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ 2005سے، یو این ایف پی اے کے تعاون سے ایسی تمام خواتین کا ملک بھر میں مفت علاج کررہا ہے، 2017 ء سے اب یہ تمام سہولیات فسٹیولا فاؤنڈیشن اور یو این ایف پی اے ے تعاون سے مہیا کی جارہی ہیں، جو فسٹیولا کے مرض میں مبتلا ہیں ملک بھر میں ایسے 9 مراکز بنائے گئے ہیں جہاں پر ان مریضوں کا نہ صرف مفت علاج ہوتا ہے بلکہ انہیں سفری اخراجات بھی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ فسٹیو لا مراکز میں پہنچ سکیں۔ یہ مراکز کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ایبٹ آباداور اسلام آباد میں واقع ہیں۔ڈاکٹر شاہین ظفر،،ڈاکٹر نگہت شاہ، ممبر، ڈاکٹرثنا اشفاق، شیما کرمانی، نیہا ملکانی،ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان فسٹیولا کے خاتمے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے۔بڑے پیمانے پر مڈوائف کی ٹریننگ شروع کی جائے اور انہیں بہتر سروس اسٹرکچر دیا جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال اور زیر نگرانی زچگی کا عمل ممکن بنایا جا سکے اور فسٹیولا سے بچاو ممکن ہو سکے۔ تمام بنیادی صحت کے مراکز اور دیہی صحت کے مراکز مکمل طور پر کام شروع کریں تاکہ خواتین کو بنیادی اور ایمرجنسی صحت کی سہولیات مُیسر آ سکیں۔

Next Post

امریکا پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

Wed May 24 , 2023
واشنگٹن (پی پی آ ئی) امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے، امریکہ پاکستان میں جمہوری اصولوں اور اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے مگر اس کی کسی ایک سیاسی امیدوار یا کسی دوسرے پر […]