پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایجنسیوں نے کہا ہے کہ عمران ریاض ان کے پاس نہیں ہیں، پولیس کا لاہور ہائیکورٹ میں جواب

لاہور(پی پی آ ئی)عمران ریاض گمشدگی کیس میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں یہ جواب جمع کرایا گیا۔ ذرا ئع کے مطابق جمعرات کو سماعت کے دوران وکیل ظہر صدیق نے عدالت میں نئے فریق کیس میں شامل کرنے کے لیے درخواست بھی دی جس پر چیف جسٹس امیر بھٹی نے سوال کیا کہ آپ نے کس کس کو فریق بنایا ہے۔اظہر صدیق نے جواب دیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنانا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کیس کو سیاسی نہ بنائیں، سیاسی بنائیں گے تو شاید کیس سن ہی نہ سکوں۔چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ ’ہم نے بنادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے، دیر سویر کو ایشو نہیں بنانا چاہیے، ہم نے زندگی کو محفوظ کرنا ہے۔چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی عدم حاضری پر سوال کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں مصروف ہیں؟ پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پنجاب شہدا کی تقریب میں شرکت کے لیے گوجرنوالہ میں ہیں، اس لیے عدالت نہیں آئے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آئی جی پنجاب کا گوجرانولہ جانے کا شیڈول کہاں ہے؟ان کو کس نے بھیجا؟ وزیر اعلی یا کس نے جانے کا کہا، وہ ریکارڈ دیں۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے عدالت کو تمام ریکارڈ اور شیڈول فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔