پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی کی پرانی تصاویر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں:آئی جی پنجاب

لاہور(پی پی آ ئی) آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی کی پرانی تصاویر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آ ئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان کا ریکارڈ نادرا سے چیک کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو یا تصاویر لگوائیں، جن کے ذریعے ان کو گرفتار کیا گیا۔ جیو فینسنگ کے ذریعے بھی لوگوں کا پتہ چلا،واٹس ایپ گروپس سے بھی پتہ چلا، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں ہدایات تھیں۔ گرفتار لوگوں نے بھی دوسرے ملزمان کے بارے میں بتایا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے متعدد سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ان میں سے کوئی بھی حالیہ واقعات کی نہیں ہے۔کسی نے کہا کہ جیل سے رہا ہونے والی خاتون کے جسم پر کٹ کے نشان تھے۔ جو لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے۔ خواتین سے لیڈی پولیس کے علاوہ کسی نے تفتیش نہیں کی۔آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ ’کسی ایک خاتون کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی تو ہم ذمہ دار ہوں گے۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انوش نے بتایا کہ ’میں جیل میں جا کر خواتین سے ملی ہوں، مرد اس حصے میں داخل ہی نہیں ہو سکتے جہاں خواتین موجود ہیں۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ’ہم کسی کو سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں دے سکتے۔‘ انھوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کو دمہ کا مسئلہ تھا اور ان کو ضروری ادویات دی گئی ہیں۔