شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بڑی بہن فوزیہ کی 20 سال بعد ملاقات

واشنگٹن(پی پی آ ئی) امریکا میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ان کی بڑی بہن فوزیہ صدیقی کی 20 سال بعد ملاقات ہو گئی۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق فوزیہ صدیقی نے فورٹ ورتھ کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ سے 20 سال بعد ملاقات کی جو کہ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سینیٹر مشتاق احمد نے بتایا کہ یہ ملاقات 20 سال بعد ہوئی جو ڈھائی گھنٹے جاری رہی، ڈاکٹر فوزیہ کو عافیہ سے گلے ملنے اور ہاتھ ملانے تک کی اجازت نہیں تھی۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹرعافیہ کو اسکے بچوں کی تصاویردکھا سکے، جیل کے ایک کمرے میں درمیان میں موٹا شیشہ لگا تھا اور اس کے آرپار ملاقات تھی۔انہوں نے بتایا کہ عافیہ سفید سکارف اور خاکی جیل ڈریس میں تھی، ڈھائی گھنٹے کی ملاقات میں پہلے ایک گھنٹہ ڈاکٹرعافیہ نے روز اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات سنائیں اور کہا کہ مجھے اپنی امی، بچے ہروقت یاد آتے ہیں (ان کواپنی امی کی وفات کاعلم نہیں ہے)۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرعافیہ کے سامنے والے دانت جیل میں حملے سے گر چکے/ضائع ہوچکے ہیں اور ان کو سر پر ایک چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ اگر چہ صورتحال تشویشناک ہے لیکن ملاقاتوں اور بات چیت کاراستہ کھل گیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام آوازاٹھائیں اور حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ فوری اقدامات کر کے عافیہ کی رہائی کا معاملہ امریکی حکومت کیساتھ اٹھائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کو بہن سے ملاقات کے لیے امریکا کا ویزا ملا تھا اور وہ سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھ امریکا گئیں۔