شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

9 مئی کے واقعات پاک فوج چین آف کمانڈ پر حملہ تھا: فیاض الحسن

راولپنڈی(پی پی آ ئی) سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ 9 مئی کے واقعات پاک فوج چین آف کمانڈ پر حملہ تھا جس کے تانے بانے امریکا، دبئی، برطانیہ اور یورپ کے ساتھ ملتے ہیں۔سا بق پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے حکومت کے خاتمے سے قبل آئی ایم ایف شرائط کو توڑا تاکہ اگلی حکومت معیشت نہ سنبھال سکے اور الزام اداروں پر آئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عرب سپرنگ کی طرز پر ففتھ جنریشن وار کا حملہ کیا گیا تاکہ فوج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں، پاک فوج کا چین آف کمانڈ بہت مضبوط ہے جس نے اس سازش کو ناکام بنایا۔ پچھلے سوا سال میں حقیقی آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا اور ہمیں بتایا گیا کہ امریکا کے خلاف جنگ ہے لیکن چار ماہ بعد اس جنگ کو پاک فوج اور اداروں کے خلاف کردیا گیا، جو بھی چیز پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتی وہ وائرل ہوجاتی جس کے لیے جبران، عاطف راجہ، حیدر مہدی کردار ادا کرتے تھے، اس وار کا ایک کنٹرول روم برطانیہ اور دوسرا دبئی میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور انسٹاگرام کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے کنٹرول کرکے فوج کے خلاف اور فوج کے اندر بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کی گی جیسے یمن، عراق، شام اور لبنان میں کی گئی، پی ٹی آئی کے 30 ہزار سے زائد ”پیڈ ورکر“ فوج کے خلاف پوسٹس اور وی لاگز کو وائرل کرنے کے کام سرانجام دیتے تھے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار کا فیصلہ کیا گیا، پارٹی لیڈر نے 7 جنازے ٹویٹ کرکے فوج پر الزام لگایا بعد میں معلوم ہوا کہ جنازے ہزارہ برادری کے ہیں جس پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردی گئی، خان صاحب نے جیسے ہی سرپرائز کا کہا تو زیر حراست خواتین پر زیادتی کا الزام لگادیا گیا خواتین نے خود باہر آکر بتایا کہ زیادتی نہیں ہوئی۔