متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

احتساب سب کا ہوگا، کوئی مقدس گائے نہیں: عرفان قادر

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون عرفان قادر نے کہا ہے کہ احتساب سب کا ہوگا، کوئی مقدس گائے نہیں، ججز کے معاملے سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، سپریم کورٹ کے چند ججز پارلیمان کے فیصلوں کو بھی نہیں مان رہے، القادر ٹرسٹ کیس میں بریک تھرو ملا ہے، سابق وزیراعظم نے قیمتی تحائف بھی وصول کئے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملے میں کرپشن کا عنصر ملتا ہے ان کے خلاف نیب قانون کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’یہ کنفیوڑن پیدا کی گئی کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملات (صرف) سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے۔ آج میں اس چیز کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔جہاں کرپشن کا ایسا عنصر ملتا ہے، جس میں کرپشن کے فوجداری قوانین عائد ہوتے ہیں، وہاں اس قانون (نیب) کے ذریعے ان (ججز) کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔عرفان قادر نے کہا کہ ’بیوروکریٹس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہوتی ہے، سیاستدانوں کے خلاف نااہلی ہوتی ہے۔ ہماری عدلیہ نے ہی کہا ہے کہ آپ ان کے خلاف قومی احتساب میں جائیں۔اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملے سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی جائیں گے اور اگر اس میں کرپشن کا عنصر ہے تو قومی احتساب بیورو میں بھی جورسڈکشن ہے، وہ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’نیب قانون میں کوئی مقدس گائے نہیں۔ کچھ جج صاحبان کی آڈیو لیکس آئی ہیں جن میں کرپشن کا عنصر ہے۔