سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جہانگیر ترین کی لندن میں میاں نواز شریف سے ممکنہ ملاقات سے متعلق چہ مگوئیاں

لندن(پی پی آئی) استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کرنے کے بعدجہانگیر ترین ان دنوں لندن میں ہیں جہاں ان کی نواز شریف سے ملاقات بارے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ اس وقت بڑی سیاسی قوتیں جہانگیر ترین کی نو تشکیل شدہ جماعت کے ذریعے انتخابات کے نتائج کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق بظاہر امکان یہ ہے کہ آئندہ انتخاب کے بعد حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں مقابلہ ہو گا، اور دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ ایک تیسرے سیاسی گروہ کو ساتھ ملا کر اپنے بنیادی حریف سے زیادہ نشستیں حاصل کی جائیں۔ایسے میں جہانگیر ترین کی جماعت جو ابھی پی ٹی آئی چھوڑنے والے اور جنوبی پنجاب کے بااثر سیاستدانوں کا ملغوبہ ہے، کی طرف بڑی جماعتوں کا رحجان فطری امر ہے۔ جہانگیر ترین کے کار خاص عون چودہری ابھی بھی شہباز شریف کی حکومت کے مشیر ہیں، اس خیال کو تقویت بخشتا ہے کہ مسلم لیگ ن استحکام پاکستان پارٹی کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی جماعت میں ابھی تک کوئی ایسا بڑا چہرہ شامل نہیں ہوا جو بذات خود اپنی سیٹ باآسانی جیت سکے، اس لیے انہیں بھی مسلم لیگ ن کی ضرورت ہے اور وہ ان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دے سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی اپنی جماعت اس پر اختلافات کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس کی اکثریت ابھی پی ٹی آئی سے ٹوٹ کر آئی ہے اور پچھلے کچھ برسوں سے ان کا اوڑھنا بچھونا ن لیگ اور پی ڈی ایم پر تنقید رہا ہے۔پی پی آئی کے مطابق تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ن لیگ استحکام پاکستان پارٹی کی حوصلہ افزائی اس لیے کر رہی ہے کہ اس میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی کے سابقہ اراکین کی وجہ سے تحریک انصاف کمزور ہو رہی ہے اور ان کا نمبر ایک ایجنڈا تحریک انصاف کو کمزور کرنا ہے۔