‫ریاؤ کمپلیکس نے ملازمین کی رہائش کے لیے ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے، جہاں ایشیا پیسیفک رے آن کے ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو جامع سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ضلع بدین سرکاری تقرریوں میں میرٹ نظرانداز کر نے کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج

اوکاڑہ میں کھدائی کے دوران تودا گرنے سے ایک مزدور جان بحق ، دوسرے کی حالت تشویشناک

اے این پی باجوڑ کے رکن ڈاکٹر طارق کے بھائی عبدالرزاق قاتلانہ حملے میں جاں بحق

برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے لندن میں ریلی

پاکستان کا مستقبل سڑکوں اور ُپلوں سے نہیں، تعلیم یافتہ بچوں سے محفوظ ہوگا:پاسبان

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عمران خان کی ٹکراؤ کی حکمت عملی کے باعث پارٹی عہدہ چھوڑا: اسد عمر

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ٹکراؤ کی حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتے۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل جولائی میں ہوجاتی، ہمیں یہ مشورہ قبول کرنا چاہیے تھا، اگر پارٹی میں مائنس ون ہوتا ہے تو پارٹی ہی نہیں رہے گی، پی ٹی آئی کے علاوہ میری کوئی سیاست نہیں۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئیاسد عمر نے کہا کہ 9 مئی کو جو خطرات نظر آئے، وہ الارمنگ تھے۔ پاکستان پر اس وقت جو خطرناک وقت آیا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس وقت ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے سب کو دو قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ مجھے عمران خان کی ٹکراؤ کی حکمت عملی سے اتفاق نہیں ہے اسی وجہ سے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ بات ہی نہیں کریں گے والی بات غلط ہے، کئی بار کہہ چکا ہوں پی ٹی آئی کی ٹکراو والی اسٹریٹیجی سے اتفاق نہیں کرتا۔ این آر او نہیں دینا چاہتے بالکل نہ دیں لیکن سیاسی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ جرم کیے ہیں تو اپنا نظام بہتر کریں مگر سیاسی ڈائیلاگ سے منع نہیں کر سکتے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے اسی طرح پی ڈی ایم کی جماعتوں نے بھی سوا دو کروڑ ووٹ لیا۔ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جن جماعتوں کو سوا دو کروڑ پاکستانیوں نے ووٹ دیا، میں ان کے ساتھ سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بیٹھوں گا۔ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ ’سب کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے فوج اور تحریک انصاف کے تعلقات بہتر ہو جائیں۔ لوگ پارٹی چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو نظر آ رہا ہے کہ اگر یہ تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے تو آگے سیاسی طور پر شاید راستے بند ہوں۔