اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پانچ سال مشکل ترین، پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ ہماری حکومت نہ چلے: مرادعلی شاہ

کراچی (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کاکہنا ہے کہ پانچ سال بہت مشکل تھے، پی ٹی آئی کی کوشش تھی کہ صوبائی حکومت نہ چلے لیکن ہم ثابت قدم رہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں ہماری اسمبلی مدت مکمل کرکے تحلیل ہوگئی، جب تک نگراں وزیراعلیٰ نہیں آتا، آئینی طور پر3دن تک میں وزیر اعلیٰ ہوں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے نگراں وزیراعلیٰ پر مشاورت ہوئی ہے، پارلیمانی کمیٹی کو بھی 3 دن دیے جائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی میں فیصلہ نہ ہوا تو معاملہ الیکشن کمیشن کو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 2013 اور 2018 میں دونوں بار نگراں وزیراعلیٰ پر متفقہ فیصلہ ہوا تھا، پوری کابینہ کا شکر گزار ہوں۔مراد علی شاہ کاکہنا تھا کہ اگست 2018 میں آنے کے چند ماہ میں وفاقی حکومت اور اپوزیشن نے غیر جمہوری اقدام کیے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وزیراعلیٰ کو تقریر نہ کرنے دی جائے، پانچ چھ گندے انڈے آجائیں تو پورا تالاب خراب کرتے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اطلاع ہی نہیں دی جاتی تھی کہ وزیراعظم آرہے ہیں، اْس وقت کے وزیراعظم منٹوں کے لیے کراچی آتے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی نے سندھ حکومت اور سندھ کو ڈس اون کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ماضی میں سیلاب کے دوران وفاق کی طرف سے مدد صفر رہی، خبریں چلائی گئیں کہ وزیراعلیٰ سندھ گرفتار ہونے والے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہبازشریف کے وزیراعطم بننے کے بعدوفاق سیتعلقات میں بہتری آئی، وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جنہوں نے سندھ کے دورے کیے، وہ جب آتے تھے تو کہتے تھے سیلاب کا پانی کیسے نکلے گا۔