روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی پی کااعتراض سر آنکھوں پر،نئی حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہیں، رانا ثنا اللہ

 اسلام آباد (پی پی آئی) سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو معلوم ہونا چاہیے کہ نئی حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے۔ پی پی آئی کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے،  پیپلز پارٹی کا اعتراض سر آنکھوں پر ہے تاہم  مردم شماری جب نوٹیفائی ہوجائے  تو  حلقہ بندیاں  اسی حساب سے ہوتی ہیں،  آئینی تقاضہ ہیکہ 2018 کے بعد الیکشن نئی مردم شماری کے تحت ہوگا، کیا ہم یہ سمجھیں کہ پیپلزپارٹی کو آرٹیکل 51کلاز فائیو کا معلوم نہیں تھا، مردم شماری کو اتفاق رائے سے نوٹیفائی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ  6 سال سے مردم شماری کا معاملہ چل رہا تھا،سی سی آئی میں پیپلز پارٹی موجود تھی، میں اس بات کا حامی تھا کہ الیکشن 90 روز کے بجائے 60 روز میں ہونے چاہئیں،  اگر پچھلی حلقہ بندیوں پر الیکشن کرایا گیا تو وہ غیر آئینی ہوگا، الیکشن فروری میں ہوں گے۔