متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دنیا کے تقریباً 33کروڑ 30لاکھ بچے انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور

کراچی (پی پی آئی) دنیا کے ہر 6بچوں میں سے ایک یعنی تقریباً 33کروڑ 30لاکھ بچے انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف اور عالمی بینک نے مشترکہ تیار کردہ رپورٹ شائع کی ہے،پی پی آئی کے مطابق رپورٹ میں بین الاقوامی شرح غذائی قلت اور مفلسی کے شکار بچوں کا جائزہ لیا گیاہے۔ رپورٹ کے مطابق یومیہ 2.15ڈالر آمدن والے افراد کو مفلس قرار دیا گیا ہے۔ مفلس بچوں کی تعداد 2022 میں 2013کے مقابلے میں 13 فیصد کمی کے ساتھ 38 کروڑ 30لاکھ سے کم ہو کر 33کروڑ 30لاکھ ر ہوگئی ہے مفلسی کے شکار بچوں کی تعداد میں کمی کورونا وائرس کی وجہ سے طے شدہ ہدف یعنی 30کروڑ سے نیچے رہی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحارائے افریقاکے بچے اس غربت کا سب سے بڑا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں دنیا کے مفلس ترین بچوں کے 40 فیصد کا تعلق اس علاقے سے ہے علاقے میں 2013میں غربت کے شکار بچوں کی تعداد 54.8 فیصدتھی جو 2022 میں بڑھ کر 71.1 فیصد ہو گئی ہے