شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 2040 تک معمول سے زائد درجہ حرارت  کے باعث پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ اموات کا خدشہ

واشنگٹن/کراچی (پی پی آئی) 2030 کے اواخرتک دنیا بھر میں 50کروڑ افراد کو کم ازکم ایک ماہ کیلئے شدید ترین گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس بات کا انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور کاربن پلان کی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شدید گرمی کا سامنا کرنے والے ان 50کروڑ افراد میں سب زیادہ بھارت کی 27کروڑ کی آبادی متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی 19کروڑ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور کاربن پلان کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے وسیع علاقے شدید گرم اور مرطوب موسم میں ڈوب جائیں گے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2040 تک معمول سے زائد درجہ حرارت پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ اموات کا سبب بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کو اس وقت ہیٹ ویوز کا سامنا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اس سال کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین ثابت ہوا ہے۔یہ پہلا سائنسی ڈیٹا ہے جس میں اس خیال کی تصدیق کی گئی کہ 2023میں شمالی نصف کرہ میں گرمی کی شدت بہت زیادہ رہی سائنسدانوں کے مطابق 2024 رواں سال سے بھی زیادہ گرم ثابت ہوگا کیونکہ ایل نینو کے اثرات زیادہ واضح ہو جائیں گے۔ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔