ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حق دو تحریک کا مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں ’مسلح جدوجہد‘ کا عندیہ

کوئٹہ (پی پی آئی)حق دو تحریک کے چیئرمین مولانا ہدایت الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر گوادر کے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو وہ مسلح جدوجہد شروع کرنے میں ہچکچائیں گے نہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جن مطالبات کی وجہ سے انہوں نے گوادر میں طویل دھرنے دیے، اب تک وہ مسائل حل نہیں ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹرالر مافیا‘ صوبے کے ساحلوں میں کام کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مچھیروں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ہدایت الرحمٰن  نے جوجماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں اس بات پر زور دیا کہ فشریز اور دیگر اہم اتھارٹیز کی موجودگی کے با وجود یہ صورتحال جاری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی پْرامن کوششوں کو نظر انداز کیا گیا تو وہ ’مسلح جدوجہد‘ کا سہارا لیں گے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے گوادر کے تقریبا 9 اضلاع اور دیگر شہروں میں پْرامن دھرنے دیے، جن کا مقصد ان ٹرالر مافیا کو بلوچستان کے سمندروں سے دور کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام، غیر ضروری چوکیوں کا خاتمہ اور دوسرے اہم مسائل کی طرف متوجہ مرکوز کرانا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو نے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ ٹرالر مافیا کو صوبے کے ساحلوں کو استعمال کرنے سے روکیں گے اور غیر ضروری چیک پوسٹس کا خاتمہ کروائیں گے لیکن تاحال اس معاہدے پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آئینی حدود میں رہ کر اپنی پْرامن کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ اس کا تعلق مقامی آبادی کی بقا سے ہے۔مولانا ہدایت الرحمٰن کے مطابق انہوں نے  مطالبات سے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو آگاہ کردیا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سابق اور موجودہ دونوں حکومتوں نے ٹرالر مافیا سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور محکمہ فشریز پر ہر ٹرالر سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا۔