جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عالمی بینک نے کم تنخواہ والے ملازمین پر ٹیکس لگانے کی تجویز واپس لے لی

 اسلام آباد(پی پی آ ئی) عالمی بینک نے کم تنخواہ والے ملازمین پر ٹیکس لگانے کی تجویز واپس لے لی۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی ترجمان نے کہا کہ ٹیکسوں کے نفاذ کیلئے کسی قسم کی سفارش نہیں کر رہے، عالمی بینک پاکستان کے ٹیکس سسٹم میں ایسی جامع اصلاحات کی سفارش کرتا ہے جن کے نتیجے میں ٹیکسوں کا بوجھ امیر افراد پر بڑھے اور غریب افراد کو ریلیف حاصل ہو، تاہم کسی بھی قسم کی تجویز دینے کیلئے نئے اعداد وشمار کا جائزہ لینا ضروری ہے کیوں کہ تجویز 2019ء کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کی گئی جس کو حالیہ مہنگائی اور لیبر مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے رپورٹ میں حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ تین ماہ کے دوران مالدار ایکسپورٹرز اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے، جولائی تا ستمبر کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 70.6 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا جب کہ ایکسپورٹرز اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایکسپورٹرز نے رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران 7 ارب ڈالر کمائے لیکن ٹیکس کی مد میں صرف 21 ارب روپے جمع کرائے، ایکسپورٹرز اپنی مجموعی رسیدوں کا صرف 1 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں جو اس سال 4 فیصد سے کم ہو کر 3.6 فیصد رہ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے پلاٹوں کی خرید وفروخت پر 44 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا، ایف بی آر نے بینکوں سے رقوم نکالنے پر ٹیکس کی مد میں 7.6 ارب روپے جمع کیے، سب سے زیادہ ٹیکس کی وصولی کنٹریکٹرز، سیونگ اکاؤنٹس ہولڈرز، امپورٹرز، تنخواہ دار طبقے، نان فائلرز کے الیکٹریسیٹی بلز، ٹیلیفون اور موبائل فون یوزرز اور ڈیویڈنڈ انکم کی مد میں کی گئی، بجلی بلوں کی مد میں انکم ٹیکس کی وصولی میں 75 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سہہ ماہی کے دوران بجلی بلوں کی مد میں 2.5 ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کیا گیا۔بتایا جا رہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور ایکسپورٹرز کے درمیان دولت کا کوئی موازنہ نہیں ہے، تنخواہ دار طبقہ کنٹریکٹرز، بینک ڈپوزیٹرز اور امپورٹرز کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا چوتھا بڑا طبقہ ہے، جس کی اکثریت کا معیار زندگی انتہائی پست ہے اور تنخواہ دار طبقے کی اکثریت اپنی آمد و رفت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹرسائیکل کا سہارا لیتی ہے۔