متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل بحالی کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر

 اسلام آباد (پی پی آئی)سابق وزیراعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ، ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز کے ذریعے دائر کی گئیں۔درخواست میں یاددہانی کروائی گئی کہ لندن میں قیام طویل ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جون 2021 میں نواز شریف کی اپیلیں خارج کردی تھیں، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے عدم پیروی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کی تھیں۔درخواست میں مو?قف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے کبھی ضمانت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، وہ تمام مقدمات میں ضمانت پر تھے، متعلقہ عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کی عدالت سے غیر حاضری جان بوجھ کر یا بدنیتی کے سبب نہیں تھی، نواز شریف طبی بنیادوں پر عدالت پیش نہیں ہوئے، کورونا وبا کے باعث علاج میں تاخیر ہوئی۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ نواز شریف بیماری سے مکمل ریکور نہیں ہوئے ہیں لیکن ملک کے بدتر معاشی حالات اور مختلف محاذوں پر درپیش چیلنجز کو دیکھ واپس آنے کا فیصلہ کیا۔نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ جان بوجھ کر پیش نہ ہونے کا مفروضہ نواز شریف کے سابقہ ٹریک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اْن کا عدالتوں میں پیش ہونے سے متعلق ٹریک ریکارڈ مثالی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ نواز شریف وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں، انہوں نے بیرون ملک سے واپس آ کر ٹرائل کا سامنا کیا، اْن کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی، انہوں نے قانون کی حکمرانی کا پاس رکھتے ہوئے بیرون ملک سے واپس آکر گرفتاری دی۔درخواستوں میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں گزشتہ عدالتی کارروائی کے ساتھ بحال کی جائیں، اْن کی سزا کے خلاف اپیلوں پر قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔