جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 پاکستان سے برطانیہ جانے والے افغان مہاجرین فوجی اڈوں میں قیام پر مجبور

 لندن(پی پی آئی)پاکستان سے برطانیہ بھیجے گئے سیکڑوں افغان مہاجرین تاحال فوجی اڈوں میں ٹھہرائے ہوئے ہیں کیونکہ برطانوی حکومت کو ان کی رہائش کا انتظام کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ اگست 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد تقریباً 3 ہزار افغان شہریوں کو برطانیہ میں رہائش فراہم کرنے کے لیے افغانستان سے نکال لیا گیا تھا جن میں سے اکثر برطانوی فوج کے لیے کام کرچکے ہیں۔یہ افغان مہاجرین گزشتہ ایک برس سے پاکستان میں تھے،۔پی پی آئی کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان نے غیر قانونی تارکین وطن کو یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کی ڈیڈلائن دی تو برطانیہ کے لیے ان مہاجرین کو لے جانا ناگزیر ہوگیا۔ برطانیہ جانے والے کچھ افغان خاندانوں کو برطانوی افواج کے لیے قائم رہائش گاہوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن ان میں سے سیکڑوں افغان مہاجرین ایسے بھی ہیں جنہیں 7 فٹ اونچی خاردار تاروں کی باڑ سے گھری فوجی بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔یہ بیرکیں برطانیہ میں لفبرو، گلوسٹرشائر، بلیک-پول اور اسٹیفورڈ شائر کے علاقوں میں واقع ہیں۔