اسلام آباد (پی پی آئی)اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مقیم طالب علموں کو ان دنوں پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ وہ جن نجی ہاسٹلوں میں قیام پذیر ہیں انھیں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے بند کیے جانے کا نوٹس دیا ہے۔ جس کے باعث ان کی ذہنی اذیت میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ان خدشات کا شکار ہیں کہ کہیں ان کا تعلیمی سفر متاثر نہ ہو۔پی پی آئی کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے اب تک تقریباً 70 پرائیویٹ ہاسٹلز کو بذریعہ نوٹس آگاہ کیا جا چکا ہے کہ وہ ہاسٹل بند کریں کیونکہ یہ ایک کاروباری سرگرمی ہے۔ ’2019 میں بھی ہاسٹلز کو اسی طرح بند کیا گیا تھا لیکن تقریباً 25 ہاسٹلز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی‘ ’وبا کے دنوں میں ایک بار پھر ایسا ہی کریک ڈاؤن کیا گیا اور اب سی ڈی اے دوبارہ پرائیویٹ ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کو ہراساں کر رہی ہے۔‘ سی ڈے اے کی نئی پالیسی کے مطابق ’دوستوں، کلاس فیلوز یا یونیورسٹی فیلوز کے ایک ساتھ رہنے کو رہائش تصور نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف خونی رشتوں کے ایک ساتھ رہنے کو ہی رہائش تصور کیا جائے گا۔‘’اسلام آباد میں تقریباً 35 سرکاری و نجی یونیورسٹیاں ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں مگر صرف پانچ یونیورسٹیوں کے پاس طلبہ کے لیے یونیورسٹی کے اندر ہاسٹلز موجود ہیں۔