جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 سانگلہ ہل شہر اور گرد ونواح میں غیر قانونی گیس ری فلنگ اور منی پٹرول پمپ کھل گئے

ننکانہ صاحب(پی پی آئی)سانگلہ ہل شہر اور گرد و نواح میں غیر قانونی گیس ری فلنگ اور منی پٹرول پمپ کھل گئے پولیس اور محکمہ سول ڈیفنس کے عملہ نے مبینہ طور پر نذرانے وصول کر کے چھپ سادھ لی۔تفصیل کے مطابق شہر بھر میں جگہ جگہ اور اسکے گردونواح میں بھی عام شاہراہوں پر غیر قانونی گیس ری فلنگ اور کھلے عام منی پٹرول پمپ قائم کر رکھے ہیں اور جن سے کسی بھی وقت کسی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے کھلے عام پٹرول فروخت کرنے اور گیس ری فلنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور بعض بااثر افراد کی طرف سے تو چوکی تھانوں کے سامنے اور قرب وجوار میں دیدہ دلیری سے گیس ری فلنگ اور کھلا پٹرول فروخت کرنے کا دھندہ جاری ہے۔شہر کی معروف ترین شاہراہوں جہاں پر روزانہ پولیس افسران اور انتظامیہ کے افسران کا گزر ہوتا ہے وہاں پر کھلا پٹرول فروخت کرتے بڑے دھڑلے سے غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں۔کھلا پٹرول اور غیر قانونی طور پر گیس ری فلنگ فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس اور دیگر محکموں کے افسران کو منتھلی دیتے ہیں جسکی وجہ سے وہ ان کی شاپس سے دور رہتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ پولیس اور سول ڈیفنس کا عملہ مبینہ طور پر کھلا پٹرول اور گیس کی غیر قانونی گیس کی ری فلنگ کا کاروبار کرنے والوں سے نذرانہ لیکر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔شہری حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ سانگلہ ہل تحصیل بھر میں کھلا پٹرول فروخت کرنے اور گیس کی ری فلنگ کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور کھلا پٹرول فروخت کرنے والوں سے نذرانہ وصول کرنے والے پولیس اہلکاروں اور سول ڈیفنس کے عملہ کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو لگام ڈالی جا سکے۔