ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پاکستانی قوم کا خاصہ ہیں،مسعود خان

اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن ڈی سی میں کرسمس کے حوالے سے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔مسعود خان نے کہا کہ مسیحی برادری کی پاکستانی معاشرے، معیشت، سیاست، تعلیم میں گراں قدر خدمات ہیں۔سفیر پاکستان مسعود خان نے یہ بات کرسمس کے حوالے سے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ جڑانوالہ کے واقعے نے پاکستان کو تعصب کے خلاف متحد کیا اور پاکستان رواداری، تکثیریت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔مسعود خان نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا جذبہ پاکستانی قوم کا خاصہ ہیں اور پاکستانی عوام روادار معاشرے کو تشکیل دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری پاکستانی معاشرے اور ریاست کا لازمی جزو ہے اور ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔سفیر پاکستان مسعود خان نے یہ بات کرسمس کے حوالے سے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور ہندوں سمیت تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ تقریب بین المذاہب ہم آہنگی اور دیگر مذاہب کے احترام کے حوالے سے پاکستان کی عملی کوششوں کی عکاس تھی۔پاکستان میں مسیحی برادری کی جانب سے پیش کی جانے والی اہم خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مسعود خان نے عدلیہ، سول سروس، مسلح افواج، پارلیمنٹ، تعلیم اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں سمیت قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں مسیحی کمیونٹی کے افراد کی نمایاں موجودگی کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم مسیحی برادری کی خدمات کے مشکور ہیں۔رواں سال جڑانوالہ کے ہولناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ اس واقعے پر پوری پاکستانی قوم غمزدہ اور صدمے سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی متاثرہ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی تھی اور متاثرہ مسیحی برادری سے اظہار یک جہتی کے لئے نہ صرف ان کی تباہ شدہ املاک کی تعمیر میں مدد کی پیشکش کی بلکہ انہیں اپنی عبادت گاہیں بھی پیش کیں۔مسعود خان نے کہا کہ اس واقعے نے بعض قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک قومی حکمت عملی (نیشنل پلان)بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے جو ہماری ترقی پسند ریاست کے لیے ضروری ہے۔سفیر نے کہا کہ آج ہم ایک خاندان کی مانند ہیں اور ہم اس رابطے کو برقرار رکھیں گے۔سفیر پاکستان نے کہا کہ 25 دسمبر یعنی کرسمس کا دن قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش بھی ہے اور اسی لئے پاکستانی قوم کے لئے اس موقع کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مسعود خان نے یہ بھی یاد کیا کہ آزاد جموں کشمیر کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں کرسمس کے موقع پر مسیحی خاندانوں کو ایوان صدر میں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا تھا۔اس موقع پر پاسٹر مائکل ٹریوٹ، ڈاکٹر جو نائٹ، رضوان جاکا، ڈیموکریٹ پارٹی لیڈر میری لینڈ عائشہ خان،،ریپبلیکن پارٹی رہنما شریلیکھا ریڈی، سکھ کمیونٹی کے لیڈر ڈاکڑ سریندر سنگھ اور سابق سینیٹر اکبر خواجہ نے بھی خطاب کیا اور تقریب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔