دو طرفہ تجارت کے لحاظ سے ٹیکسٹائل سیکٹر انتہائی اہمیت کا حامل ہے،جرمنی کے قونصل جنرل

کراچی (پی پی آئی)جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر رویڈیگر لوٹز نے کہا ہے کہ دو طرفہ تجارت کے لحاظ سے ٹیکسٹائل سیکٹر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان کی جرمنی کو برآمدات کا 85 فیصد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہے جو کہ اگرچہ شاندارتو ہے لیکن موجودہ تجارتی حجم کو مزید بہتر بنانے کے لیے برآمدات کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد شیخ، سینئر نائب صدر الطاف اے غفار، نائب صدر تنویر احمد بیری، سابق صدر مجید عزیز اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔  جرمن قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اعلیٰ تربیت یافتہ پیشہ ور افراد چلا رہے ہیں جو اچھے معیار کی مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔میں کراچی کی معاشی اہمیت دیکھ کر متاثر ہوا ہوں جو پورے ملک کے لیے ٹیکس آمدنی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے ویزوں کے اجراء میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں جس کی وجہ ویزا درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ہمارے پاس پانچ سال پہلے کرونا وبا سے قبل کی درخواستوں کے مقابلے میں تقریباً دگنی سے بھی زیادہ ویزہ درخواستیں موصول ہورہی ہیں لیکن عملے کی تعداد وہی ہے جو روزانہ صرف ایک مخصوص تعداد میں ویزا درخواستوں پر کارروائی کر سکتے ہیں۔میں اپنے عملے سے کہتا ہوں کہ وہ طلباء اور تاجروں کو ترجیح دیں جو ویزا اپائنٹمنٹ کے خواہاں ہوتے ہیں۔                انہوں نے بتایا کہ جرمنی میں اس وقت تقریباً 4000 پاکستانی طالب علم زیر تعلیم ہیں جو خوش آئند ہے لیکن میرے خیال میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے۔عام طور پر دو رکاوٹیں ہوتی ہیں جن میں سے پہلی رکاوٹ طلباء قانونی تقاضوں کے مطابق یہ پوچھنا ہے کہ آیا وہ جرمنی میں تین سے چار سال تک تعلیم حاصل کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں یا نہیں یعنی آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کے بینک اکاؤنٹ میں 12000 یورو موجود ہیں جو کہ بہت سے لوگوں کے لیے بہت زیادہ رقم ہے جبکہ دوسری رکاوٹ زبان ہے۔جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کا سب سے بڑا فائدہ مفت تعلیم ہے کیونکہ وہاں کوئی ٹیوشن فیس نہیں ہے جو کہ امریکا اور برطانیہ سے بہت مختلف ہے۔قونصل جنرل نے پاکستان میں ووکس ویگن کے آپریشنز کے آغاز کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل درآمدات پر پابندی کے باعث یہاں ووکس ویگن کی پیداوار میں تاخیر ہوئی۔گاڑیاں بنانے والی کمپنی کو ضروری مشینری لانے کی اجازت نہیں دی گئی جس سے منصوبہ رک گیا۔یہاں تک کہ اگر ووکس ویگن کو ابھی مشینری لانے کی اجازت دی جاتی ہے تو اسے پیداوار شروع کرنے میں کم از کم ڈیڑھ سال اور لگے گا۔فی الحال یہ واضح نہیں کہ ووکس ویگن اس منصوبے کو مزید آگے بڑھائے گی یا نہیں جو کہ افسوس کی بات ہے لیکن یہ پاکستان کے معاشی مسائل کے منفی اثرات میں سے ایک ہے۔میں ووکس ویگن میں بین الاقوامی امور کے ذمہ دار شخص سے باقاعدگی سے رابطے میں رہتا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس وقت انہوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس پروجیکٹ کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔

                کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد شیخ نے جرمن قونصل جنرل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جرمنی 1951 سے گرمجوشی سے دوستانہ اور دوطرفہ سفارتی تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔یہ بات خوش آئند ہے کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ سماجی، سیاسی اور اقتصادی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی استحکام میں بھی گہری دلچسپی رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جرمنی کو برآمدات مالی سال 22 میں 1.75 ارب ڈالر کے مقابلے مالی سال 23 میں 1.60 ارب ڈالر رہیں جو کہ سالانہ بنیادوں پر 8.62 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔دونوں ممالک کو تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعات کی رینج کو متنوع بنایا جاسکے اورکسٹم کے طریقہ کار کو بھی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایزکو بھی فروغ دیا جائے نیز اقتصادی انضمام کے لیے انتہائی ضروری کاروباری تعاون کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے جرمن سرمایہ کاروں کی طرف سے مشترکہ منصوبوں کے قیام، ہائی ویلیو ایڈڈ برآمدات کی طرف منتقلی سے ملک کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہو گا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) پاکستان کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن منصوبہ ہے جو جرمن سرمایہ کاروں کو زبردست مواقع فراہم کر سکتا ہے جو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور اس پورے خطے میں باآسانی داخل ہو سکتے ہیں جبکہ ڈیری، ایگریکلچر، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، الیکٹریکل مشینری، پاور جنریشن، انفرااسٹرکچر، آئل اینڈ گیس سیکٹر وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں جرمن سرمایہ کاری کے کافی امکانات موجود ہیں۔صدر کے سی سی آئی نے جرمن قونصل جنرل سے درخواست کی کہ وہ جرمن کمپنیوں کو اگلے سال اگست میں منعقد ہونے والی ”مائی کراچی اویسس آف ہارمنی انٹرنیشنل“ نمائش میں شرکت کی دعوت دیں جس میں بین الاقوامی اور قومی نمائش کنندگان کی جانب سے بھرپور شرکت کی توقع ہے۔

Next Post

عام انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل

Sat Dec 30 , 2023
اسلام آباد(پی پی آئی)عام انتخابات کیلئے امیدواروں کی طرف سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل آج مکمل ہوگیا۔کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں آئندہ ماہ کی تین تاریخ تک دائر کی جاسکتی ہیں اور ان اپیلوں کا فیصلہ آئندہ ماہ کی دس تاریخ […]