ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پشاور کے موبائل پلازہ میں آگ سے کروڑوں کا سامان خاکستر

پشاور(پی پی آئی)پشاور کے علاقے صدر میں واقع موبائل پلازہ میں گزشتہ رات لگنے والی خوفناک آگ نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، 130 سے زیادہ فائرفائٹرز اور 26 فائروہیکلز، 4 واٹر باؤزرز  نے آگ بجھانے کے عمل میں  حصہ لیا۔ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لئے پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور خیبر سے فائر وہیکلز اور فائر فائٹرز کو طلب کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ موبائل سنٹر میں موجود بیٹریوں، یو پی ایس اور موبائل ایسسیریز پھٹنے سے آگ کی شدت بڑھی۔ آگ کی لپیٹ میں 60 سے زائد دکانیں اور درجنوں کاؤنٹرز آگئے۔آگ کی شدت میں اضافے کے باعث فائر فائٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہواہے۔آگ پر قابو پانے کیلئے ریسیکو اہلکاروں کے ساتھ پاک فوج کے جوان بھی موجود  تھے۔کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل حسن اظہر حیات بھی پلازہ کے دورے پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کے عمل کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر خطیر احمد بھی موجود تھے۔متاثرہ عمارت کے قریب گھروں کو خالی کرا لیا گیا تھا۔بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ٹائم سنٹر میں 4 افراد سامان نکالنے کے لیے گئے اور پھنس گئے جنہیں نکال لیا گیا ہے۔فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ پانچ افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔بلال احمد فیضی کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل آپریشن  رہا کیونکہ پلازہ کا صرف ایک داخلی دروازہ ہے اور اندر 200 کے قریب دکانیں ہیں اور اندر جانے میں مشکلات پیش آئیں۔بلال فیضی نے کہا کہ دکانوں میں موبائل بیٹریاں موجود ہیں، جب ایک جگہ آگ بجھائی جاتی ہے تو دوسری جگہ بیٹریوں کی وجہ سے دوبارہ آگ بھڑک اٹھتی۔مارکیٹ کے ایک دکاندار شاہ فیصل نیگفتگو میں کہا کہ رات ایک بجے اطلاع ملی کہ آگ لگی ہے، جب ہم پہنچے تو آگ نے مارکیٹ کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔