پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سالٹ انڈسٹری سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم سے خارج،برآمدکنندگان متاثر

کراچی(پی پی آئی)سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) نے سالٹ انڈسٹری کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم سے خارج کرنے اور مینوئل سسٹم میں ڈالنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینوئل طریقہ کار کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں سالٹ کے برآمدکنندگان کے اربوں روپے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاسم یعقوب پراچہ نے حکومت سے اپیل کی کہ دیگر برآمدی سیکٹرز کی طرح سالٹ انڈسٹری کو بھی فاسٹر سسٹم میں شامل کیا جائے تاکہ برآمدکنندگان کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی جلد ادائیگی ممکن ہوسکے۔ پی پی آئی کے مطابق قاسم یعقوب پراچہ نے حکومت سے اپیل میں نشاندہی کی کہ فاسٹر سسٹم نے اگست2023 سے سالٹ انڈسٹری کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز وصول کرنا بند کردیے ہیں اورسسٹم سیلز ٹیکس رولز کے رول 39 بی کا حوالہ دیتے ہوئے سالٹ انڈسٹری کے برآمدکنندگان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کو قبول نہیں کرتا جس کی وجہ سے برآمدکنندگان مینوئل طریقے سے ریفنڈ کلیمز داخل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مینوئل طریقہ کار کے تحت جب ریفنڈ کلیمزدائرکیے جاتے ہیں تو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ پہلے فاسٹر سسٹم پر کلیمز دائر کریں اور جب مسترد کا پیغام ملے تو اس کے بعد مینوئل طریقہ کار کے تحت ریفنڈ کلیمزدائر کریں مگر پھر بھی برآمدکنندگان کو ادائیگیاں ممکن نہیں ہوسکیں۔چیئرمین سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم کو صرف 5 برآمدی سیکٹرز تک محدود کرنا دیگر سیکٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک  کے مترادف ہے کیونکہ دیگر سیکٹرز بھی ملکی برآمدات کے فروغ میں اپنا معقول حصہ ڈال رہے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ برآمدی سیکٹرز کو یکساں بنیاد پر سہولتیں فراہم کرے