شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 بلوچستان میں امیدواروں کوانتخابی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت

کوئٹہ(پی پی آئی)بلوچستان کی نگران حکومت نے یکم فروری کو ایک ہی دن میں 15 دھماکوں اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے امیدواروں کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتخابی مہم اور اجتماعات محدود کرنے اور جلسے جلوسوں کے بجائے کارنر میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے بھی  کوئٹہ کا دورہ کیاہے۔ دورے کے دوران نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز کو امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔جس کے بعد وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ’عام انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے اور عام انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘یکم فروری کوصوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں 15 حملے ہوئے۔ان حملوں میں انتخابی امیدواروں کے علاوہ قائم کیے جانے والے پولنگ ا سٹیشنوں، ڈی سی آفس، پولیس سٹیشن، جیل، نادرا آفس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔جبکہ گذشتہ ماہ جنوری میں بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں انتخابی امیدواروں اور دفاتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پی پی آئی کے مطابق جنوری میں کوئٹہ، خضدار، خاران، قلات، سبی، ڈیرہ مراد جمالی میں مختلف دھماکوں میں چار افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کے ہدف مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیاں اور دفاتر تھے