روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں کیڑے مار ادویات، آلودگی، جنگلات کی کٹائی سے ننھے کیڑوں کی نسل معدوم

کراچی(پی پی آئی)پاکستان  کے شہروں اور دیہات میں جگنو، تتلیاں اور شہد کی مکھیاں معدوم ہوتی جا رہی ہیں جس سے ماحول، زراعت کی تباہی کا خدشہ ہے۔شہد کی مکھی نہ صرف شہد فراہم کرتی ہے بلکہ اسی ننھے کیڑے کے باعث پھول بھی کھلتے ہیں۔ لیکن اب جگنو، تتلیاں اور شہد کی مکھیوں  کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔کیڑے مار ادویات کے استعمال، آلودگی، درختوں اور پودوں کی کمی سے ان ننھے کیڑوں کی نسل بھی تباہ ہورہی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور کیڑے مار ادویات کے اسپرے نے خیبرپختونخوا میں شہد کی مکھی کی نسل تقریباً ختم ہی کردی ہے۔مقامی دیسی مکھی ایپس سرانا بڑی پہاڑی مکھی ہے جنہیں ڈبوں میں مگس بانی کے لیے پالا نہیں جا سکتا، وہ بھی ختم ہورہی ہیں۔ مکھی نہ ہونے سے شہد کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔شہد کی مکھی صرف شہد کی پیداوار کیلئے ہی ضروری نہیں، سائنس دان کہتے یہ مکھی نہ ہوتی تو ہماری زندگی بھی یکسر مختلف ہوتی۔خیبرپختونخوا میں لاکھوں مکھیاں مرنے سے 8 اقسام کا شہد ناپیدہوگیا ہے۔