خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 مقبوضہ جموں کشمیر میں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: رپورٹ

اسلام آباد(پی پی آ ئی)نیویارک: ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبیلو) کے 89ویں اجلاس کے دوران جاری ہونے والی رپورٹ میں قابض بھارتی فورسز کیطرف سے کشمیری عوام کو خوف و دہشت کرنے کے لیے عصمت دری کے منظم استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا کہ بھارتی فورسز نے 1990 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 10ہزار سے زائد خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی ہے، عصمت دری کا شکار یہ خواتین شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2019 کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین مسلسل محاصرے اور نگرانی کی حالت میں رہتی ہیں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے انہیں اجتماعی عصمت دری، جبری گمشدگی، قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کنن پوش پورہ اجتماعی آبروریزی کے المناک واقعے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جہاں 1991 میں بھارتی فوجیوں نے 100کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ڈاکٹر فائی کی رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے.