خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود میں 500بیسس پوائنٹس تک کمی کرے،زبیرطفیل

کراچی(پی پی آئی)یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے صدر زبیر ایف طفیل،ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئرنائب صدر مظہرعلی ناصراوردیگر یو بی جی رہنماوں نے   مطالبہ  کیا ہے کہ پیر کو ہونے والے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں شرح سود کم از کم 400 سے 500 بیسس پوائنٹس کم کی جائے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی) کے مرکزی ترجمان کے مطابق زبیرطفیل نے کہا کہ ملکی سطح پرکاروبار کی لاگت،کاروبار کرنے میں آسانی اور فنانس تک رسائی میں برآمدی منڈیوں میں اپنے تمام حریفوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ چلینجزدرپیش ہیں اور ان حالات میں کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری یہ توقع رکھتی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود میں نمایاں کمی کرکے اسے حققی سطح پر لائے کیونکہ یہ بنیادی افراط زر کی نسبت بھاری پریمیم پر مبنی ہے،۔زبیرطفیل نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کا قرضہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کم ترین سطح پر آ گیا ہے جو کہ 2023 تک جی ڈی پی کا صرف 12.0 فیصد تھا،عالمی منڈی میں حریف ممالک کے مقابلے میں مسابقت میں ناکامی نے انڈسٹری اور ایکسپورٹ کو متاثر کررکھا ہے،یہ حقیقت ہے کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر کامیابی سے قابو پالیا ہے لیکن اس کی سخت مانیٹری پالیسی غیر متوازن قرضوں کا ماحول پیدا کررہی ہے۔مظہر علی ناصر نے کہا کہ یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر ایس ایم تنویر مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ انہیں ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کے مسائل کا ادراک ہے۔مظہرعلی ناصر نے کہا کہ شرح سود کم ہونے سے معاشی سرگرمیاں بحال ہوسکیں گی اور حکومت کا ریونیوبھی بڑھے گاجبکہ روزگار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔