پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نئی دلی کی عدالت سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کی رہا ئی کا حکم

نئی دلی:نئی دلی کی ایک عدالت نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جنہیں دلی وقف بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق منی لانڈرنگ کے الزامات پرگرفتار کیا گیا تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امانت اللہ خان ا2ستمبر کونفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے گرفتاری کے بعد دو ماہ سے عدالتی حراست میں تھے۔ دلی انسداد بدعنوانی برانچ نے امانت اللہ خان کے خلاف دلی وقف بورڈ کے فنڈز کے غبن اور غلط استعمال سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر منیش سسوڈیا نے ایک بیان میں کہاہے کہ عدالت کی طرف سے امانت اللہ خان کی ضمانت پر رہائی کا حکم بی جے  پی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کی طر ف سے امانت اللہ خان کو ضمانت پر رہائی کے حکم سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے جیل بھیجاتھا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف تحقیقاتی اداروں کا غلط استعمال کررہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دیگر رہنماؤں بشمول کنوینر اروند کیجریوال نے بھی امانت خان کی ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اے اے پی کے رہنما نے آئی آئی او جے کے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک عدلیہ یا قانونی کمیٹی قائم کریں جو ضلعی اور ریاستی سطح پر پی ایس اے کے تحت مقدمات کا جائزہ لے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس قانون کا غلط استعمال ذاتی یا سیاسی انتقام کے لیے نہ ہو۔ملک نے یہ بھی اعلان کیا کہ اے اے پی کی آئی آئی او جے کے شاخ معروف وکلا کی ایک قانونی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جو پی ایس اے کی گرفتاریوں کی غلط منظوری دینے والے حکام کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کرے گی۔ “اس اقدام کا مقصد احتساب لانا اور یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ پی ایس اے کی درخواستیں منصفانہ اور انصاف کے مطابق ہوں،” انہوں نے کہا۔پڈار کی گرفتاری نے وسیع پیمانے پر تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا ہے، اور مختلف تنظیموں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ حکام سے پی ایس اے کے غیر منصفانہ استعمال کو روکنے اور اس قانون کو دباو? کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔۔