ایبٹ آباد میں حاشر تاج تشدد کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

سندھ میں نئی کنوؤں سے گیس کی پیداوار کا آغاز

کراچی پاپوش میں تشدد زدہ لاش دریافت

اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم، یورو میں کمی جبکہ برطانوی پاؤنڈ معمولی مہنگا

تلہار کے نواح میں مہنگائی سے پریشان محنت کش نےخود کشی کرلی

ٹھٹھہ بائی پاس کے قریب کار کی ٹکر سے راہگیر خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ایک زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں مرگی کے مرض کا تناسب خطرناک حد تک زیادہ ہے: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

کراچی10فروری (پی پی آئی)ایپی لیپسی فاو نڈیشن آف پاکستان کی صدر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں مرگی کے مرض کا تناسب دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ مرگی کے عالمی دن کے موقع پر  ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی بنیادی وجوہات میں بچپن میں انفیکشن، تیز بخار پر بروقت قابو نہ پانا، پیدائش کے دوران آکسیجن کی کمی اور انفیکشن، ٹائیفائیڈ، ٹی بی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو مرگی کی بیماری سے کیسے بچایا جائے اس کا تعلق مریض کے طرز زندگی میں تبدیلی، مناسب علاج، ورزش اور اچھی خوراک سے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات اس بیماری پر قابو پانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ مریض اور ان کے لواحقین کو اس مرض سے گھبرانے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنے معالج کی مدد سے بیماری سے لڑنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مرگی کا مرض قابل علاج ہے بشرطیکہ مریض اپنے ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون کریں اور ان کی ہدایات پر سختی سے عمل اور باقاعدگی سے ادویات لیں۔ فری میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی،ڈاکٹر شاہد مصطفی اورڈاکٹر عائشہ فاروق نے مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں مفت میڈیکل ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔