جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خوردنی تیل کیلئے نئی مخصوص جیٹی کے قیام کی تجویز پر عملدرآمد ممکن ہے:وفاقی وزیر بحری امور

کراچی 18فروری (پی پی آئی)  وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر شیخ نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کے لئے نئی مخصوص جیٹی کے قیام کی تجویز پر عملدرآمد ممکن ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ انہوں نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے دورے کے موقع پر کہا کہ پی این ایس سی کے جہازوں کے ذریعے خوردنی تیل کی درآمد سے ملک کو مالی فائدہ ہوگا۔اکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے بیان کے مطابق، وفاقی وزیر نے پی وی ایم اے، پورٹ قاسم، پی این ایس سی اور وزارت بحری امور کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے، جو مشترکہ مسائل کے حل کیلئے تجاویز مرتب کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ میری ٹائم کا شعبہ ہی مستقبل ہے اور اس میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے کہا کہ خوردنی تیل کی درآمد میں تاخیر سے انڈسٹری کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لئے مزید برتھیں مختص کی جائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی این ایس سی کے پاس موجود 12 جہازوں کے ساتھ مزید 4 جہاز حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو جہاز چارٹر کیے جائیں گے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین معظم الیاس نے کہا کہ ایم ڈبلیو ون جیٹی چاول کے ایکسپورٹ کیلئے مختص ہے لیکن خوردنی تیل کیلئے جیٹی کی حد مکمل طور پر استعمال نہیں ہوئی۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف سختی سے کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔پام آئل سپلائر ایسوسی ایشن کے صدر نوید گیلانی نے کہا کہ پی این ایس سی اگر جہاز چارٹر پر حاصل کرے تو ڈالر میں ڈیمریجز ادا کرنے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس تقریب میں شرکت کرنے والے دیگر ممبران نے بھی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔