سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جب تک ٹیکس کلچر نہیں آتا، شرح نمو کم اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا: ملک خدا بخش

کراچی،25فروری (پی پی آئی)پاکستان بزنس فورم (کراچی چیپٹر) کے صدر ملک خدا بخش نے کہا کہ توانائی اور ٹیکس اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور تاجر برادری وزیراعظم اور آرمی چیف کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھرپور تعاون کریں۔ پاکستان بزنس فورم کے ایک بیان کے مطابق ملک خدا بخش نے  ایک بیان میں کہا کہ اہم معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں ٹیکس اور توانائی کے نظام کی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے 40 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری درست سمت میں پیش رفت کا ثبوت ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنے میں خاص مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ملک خدا بخش نے ٹیکس کلچر کی کمی کو نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسز کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، جس سے غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکس کلچر تیار نہیں ہوتا، ملکی شرح نمو کم رہے گی اور بے روزگاری کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھائے بغیر یہ ممکن نہیں۔ملک خدا بخش نے عوام، سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کو وزیراعظم اور آرمی چیف کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تعاون کا مشورہ دیا تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنایا جا سکے۔