پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کشمیری عوام مسئلہ کے اصل فریق،ان کے بغیر کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں: سلطان محمود چوہدری

اسلام آباد،5مارچ (پی پی آئی)صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تمام سیاسی قیادت کو متحد ہونا چاہیے اور مذاکرات سہ فریقی ہونے چاہییں، جن میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے اصل فریق ہیں اور ان کے بغیر کوئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں کشمیری صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس ریلیز کے مطابق، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی پالیسیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک نے بھارت کے جمہوری تشخص کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے حالیہ امریکہ اور برطانیہ کے دورے کے بعد بھارت عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن پر آ گیا ہے۔ عالمی برادری کو باور کرانا ہوگا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزادکشمیر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قیام، راولاکوٹ اور مظفرآباد ایئرپورٹس کی وسعت و بحالی، میرپور-مظفرآباد-مانسہرہ موٹروے کی تعمیر، میرپور میں سی پیک بزنس سینٹر کے قیام اور رٹھوعہ ہریام پل کی جلد تعمیر کے لیے وہ ہر سطح پر اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 2019 کے اقدامات کو کشمیری عوام مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے امریکہ اور برطانیہ کے دورے کے دوران برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین اور امریکی کانگریس کے ممبران سے ملاقاتیں کیں اور انہیں کشمیر کے مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری جنوبی ایشیا میں امن چاہتی ہے تو بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانا ہوگا۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر پسپائی کا سامنا ہے اور انٹرنیشنل کمیونٹی کشمیری عوام کے موقف کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ اپنے ملک میں بھی اقلیتوں کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد عالمی سطح پر سامنے آ چکے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی کینیڈین پارلیمنٹ میں ثبوت فراہم کیے کہ ایک کینیڈین شہری کے قتل میں بھارت ملوث تھا۔افطار ڈنر میں مختلف صحافتی تنظیموں کے عہدیداران اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔