ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نشہ آور اشیا اورموبائل کا بلاضرورت استعمال سماعت پر منفی اثر ڈالتا ہے:ماہرین صحت

کراچی،7مارچ (پی پی آئی)پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے سماعت کے عالمی دن کے موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں بتایا کہ پان، چھالیہ، گٹکا، نشہ آور اشیا کے علاوہ موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور بلیوٹوتھ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک کا بے ہنگم شور بھی ایک آلودگی ہے جس کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔اس سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے کی اور اس میں ڈاکٹر طارق زاہد خان، ڈاکٹر تہمینہ جنید، ڈاکٹر صدف ضیا سمیت فیکلٹی، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری اور پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر صبا سہیل نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی سیمینار کے دوران ای این ٹی ریذیڈنٹس نے کان کی مختلف بیماریوں، ان کی تشخیص اور علاج پر گفتگو کی۔ سیمینار میں گزشتہ ایک برس کے دوران سول اسپتال میں کان کی سوزش (سی ایس او ایم) کے سرجیکل علاج کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے، جن میں جنوری 2024 سے یکم مارچ 2025 تک 100 مریضوں کی سرجری کی گئی۔پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ سماعت متاثر ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں، جیسے خسرے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی نقائص اور سانس کی اوپری نالی میں انفیکشن۔ انہوں نے واضح کیا کہ جلد کی دائمی بیماری کی وجہ سے بھی کان کا پردہ متاثر ہوتا ہے۔سیمینار کے بعد سول اسپتال کے ای این ٹی وارڈ سے لے کر ڈاؤ میڈیکل کالج کے کلاک ٹاور تک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک کے اختتام پر ڈاکٹر صبا سہیل کی قیادت میں ورلڈ ہیئرنگ ڈے کی تھیم کی مناسبت سے جامنی رنگ کے غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔