آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی ٹی آئی سندھ کے صدر کا سانحہ ملیر ہالٹ پر اظہار افسوس، ٹریفک نظام کی تباہی پر شدید ردعمل

کراچی،24مارچ (پی پی آئی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر، حلیم عادل شیخ نے کراچی میں ٹریفک کے بگڑتے ہوئے حالات اور ملیر ہالٹ پر پیش آنے والے المناک حادثے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں موٹر سائیکل سوار، اْس کی اہلیہ اور شیر خوار بچہ جاں بحق ہوگئے۔جاری کردہ بیان میں حلیم عادل شیخ نے کہا: “کراچی میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ لاپرواہ ٹینکرز اور بھاری گاڑیاں بے گناہ شہریوں کو کچل رہی ہیں، جبکہ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔”یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار ٹینکر نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، جس پر قیوم، اْس کی اہلیہ زینب اور اْن کا نومولود بچہ سوار تھے۔ تینوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ شاہ فیصل کالونی میں ادا کی گئی، جس میں مقامی افراد کے علاوہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، ایم پی اے چوہدری اویس اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔حلیم عادل شیخ نے واقعے کو “دل دہلا دینے والا” قرار دیا اور سندھ حکومت و ٹریفک حکام کو غیر ذمہ داری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا: “یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی کی عکاسی ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اپنا کام صحیح کرتے تو یہ معصوم جانیں بچ سکتی تھیں۔”انہوں نے سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور ٹینکر مافیا کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام بھی لگایا، جس کی وجہ سے بھاری گاڑیاں بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے سڑکوں پر دندناتی پھرتی ہیں۔ “غریب موٹر سائیکل سواروں کو فوری چالان کیا جاتا ہے، لیکن یہ جان لیوا ٹینکرز آزاد گھومتے ہیں۔ یہ کھلا ظلم ہے،” انہوں نے کہا۔پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ صرف جنوری سے مارچ 2025 تک کراچی میں 216 سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: “یہ ایک بحران سے کم نہیں۔ فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔”انہوں نے جاں بحق خاندان کے لیے فوری مالی امداد، غیر قانونی اور غیر فِٹ بھاری گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اور سخت قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سوال کیا: “کیا انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ ان تین معصوم جانوں کے خون کا حساب کون دے گا؟” انہوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ وہ عوامی تحفظ کو ترجیح دے اور ایسے قابلِ تدارک سانحات کا خاتمہ کرے۔