کراچی بنگالی پاڑہ سے 2 زخمی ڈاکو گرفتار ،شاہ لطیف میں بھائی کے ہاتھوں بھائی زخمی

کراچی اورنگی ٹاؤن اور سی ٹی او کمپاؤنڈ میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے ، 3 ڈاکو گرفتار ، ایک فرار

کراچی گلشن اقبال اور بوٹ بیسن میں فائرنگ 2 ڈاکو ایک راہگیر زخمی

نائب وزیراعظم کا فعال خارجہ پالیسی ، اقتصادی سفارت کاری کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر سرمایہ کاری سے برطانیہ،چین فنڈ کے وفد کی ملاقات ، صنعتی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال

اوکاڑہ گجر چوک پر موٹر سائیکلوں میں تصادم ، میں 2 افراد جاں بحق ، 3 زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

گندم کی سرکاری خریداری بند ہونے کے بعدآڑھتیوں کی من مانیاں عروج پر

خیر پور،09اپریل (پی پی آئی) گندم کی سرکاری خریداری بند ہونے کے بعد نجی بیوپاریوں نے دیہی علاقوں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ بیوپاری 1800 سے 2000 روپے فی من گندم خرید کر آبادگاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبادگاروں کی جانب سے سرکاری خریداری مراکز کھولنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔گندم کے آبادگاروں نے شکایت کی ہے کہ ماضی میں حکومت نے تمام اضلاع میں خریداری مراکز قائم کیے تھے۔ محکمہ خوراک کا عملہ 4000 روپے فی من گندم خریدتا تھا، جس سے آبادگاروں کو فائدہ ہوتا تھا۔ لیکن اب بیوپاری 1800 سے 2000 روپے فی من گندم خرید رہے ہیں، جس سے آبادگاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔آبادگار قرض کی ادائیگی کے لیے مجبور ہوکر نجی بیوپاریوں کو گندم بیچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نجی خریداری اسی طرح جاری رہی تو ان کا دیوالیہ نکل جائے گا اور وہ خودکشی پر مجبور ہو جائیں گے۔بدھ کے روز آبادگار آفتاب احمد بھنبھرو، محمد صالح بھنبھرو، محمد یوسف ٹانوری، عبدالقادر میمن، محمد عالم ڈاہری اور دیگر نے رسول آباد، ہنگورجہ، صوبھوڈیرو اور دیگر علاقوں سے خیرپور پہنچ کر صحافیوں سے اپیل کی کہ ان کی آواز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تک پہنچائی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ گندم کی سرکاری خریداری کے مراکز ہنگامی بنیادوں پر کھولے جائیں تاکہ آبادگار نجی بیوپاریوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچ سکیں۔