گندم کی سرکاری خریداری بند ہونے کے بعدآڑھتیوں کی من مانیاں عروج پر

خیر پور،09اپریل (پی پی آئی) گندم کی سرکاری خریداری بند ہونے کے بعد نجی بیوپاریوں نے دیہی علاقوں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ بیوپاری 1800 سے 2000 روپے فی من گندم خرید کر آبادگاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبادگاروں کی جانب سے سرکاری خریداری مراکز کھولنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔گندم کے آبادگاروں نے شکایت کی ہے کہ ماضی میں حکومت نے تمام اضلاع میں خریداری مراکز قائم کیے تھے۔ محکمہ خوراک کا عملہ 4000 روپے فی من گندم خریدتا تھا، جس سے آبادگاروں کو فائدہ ہوتا تھا۔ لیکن اب بیوپاری 1800 سے 2000 روپے فی من گندم خرید رہے ہیں، جس سے آبادگاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔آبادگار قرض کی ادائیگی کے لیے مجبور ہوکر نجی بیوپاریوں کو گندم بیچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نجی خریداری اسی طرح جاری رہی تو ان کا دیوالیہ نکل جائے گا اور وہ خودکشی پر مجبور ہو جائیں گے۔بدھ کے روز آبادگار آفتاب احمد بھنبھرو، محمد صالح بھنبھرو، محمد یوسف ٹانوری، عبدالقادر میمن، محمد عالم ڈاہری اور دیگر نے رسول آباد، ہنگورجہ، صوبھوڈیرو اور دیگر علاقوں سے خیرپور پہنچ کر صحافیوں سے اپیل کی کہ ان کی آواز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تک پہنچائی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ گندم کی سرکاری خریداری کے مراکز ہنگامی بنیادوں پر کھولے جائیں تاکہ آبادگار نجی بیوپاریوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

جی ڈی اے رہنماؤں کی کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر پر حملے کی مذمت

Wed Apr 9 , 2025
کراچی، 9اپریل (پی پی آئی)گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے جنرل سیکرٹری، ڈاکٹر صفدر علی عباسی، اور سردار عبد الرحیم نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے، اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا […]