پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سندھ حکومت پر تنقید

کراچی، 9اپریل (پی پی آئی) سندھ کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو سخت جواب دیتے ہوئے صوبے میں مختلف شعبوں کی حکمرانی کے اہم مسائل پر بات کی۔ خورشیدی نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے تمام اضلاع اور یونین کونسلز میں صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحت کا شعبے سے اگر بیرون امداد نکال دی جائے تو یہ شعبہ امداد کے بغیر تباہ ہو جائے گا، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے رہنما کراچی کے نجی اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں۔انہوں نے عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو 15,000 بسوں کی ضرورت ہے، لیکن 17 سال کی حکمرانی کے بعد صرف 400 فراہم کی گئی ہیں، جسے انہوں نے بھیک قرار دیا۔ خورشیدی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ضوابط میں تبدیلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئے ضوابط شہر کو مزید تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ انہوں نے کراچی سے کشمور تک صوبے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے کے شعبہ میں پیپلز پارٹی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 70 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔2024 کے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خورشیدی نے ذکر کیا کہ شہری عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا ہے، اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ایک بڑا تبدیلی کی پیش گوئی کی۔