خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ون ڈاکومنٹ پالیسی نافذ، افغان باشندوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن ختم

اسلام آباد، 10 اپریل (پی پی آئی) وفاقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں، بشمول افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کی واپسی کا عمل بغیر کسی توسیع کے جاری رہے گا۔ اس عمل کی آخری تاریخ 31 مارچ 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ون ڈاکومنٹ پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تمام غیر ملکیوں کے لیے پاکستان میں داخلے اور قیام کے لیے درست پاسپورٹ اور ویزہ لازم قرار دیا گیا ہے۔ افغان شہری اب صرف اس پالیسی کے تحت پاکستان میں آمد، کام اور قیام کر سکتے ہیں۔یہ واپسی تین مراحل میں کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں بغیر کسی قانونی دستاویزات کے مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، جبکہ تیسرے مرحلے میں پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔وزارت داخلہ کے مطابق غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی کا فیصلہ 30 اکتوبر 2023 سے نافذ العمل ہے۔ اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ افغان شہری منشیات اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی مجرمانہ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔اس عمل کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے ملک بھر میں عارضی ٹرانزٹ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں 38، خیبر پختونخوا میں 3، سندھ میں 2، آزاد کشمیر میں 3، جبکہ بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں ایک ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو ان مراکز میں روانگی سے قبل خوراک، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔وزارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واپسی کا عمل تمام صوبوں اور علاقوں، بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، کی مشاورت سے انجام دیا جا رہا ہے اور اس دوران واپس جانے والوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 15 ہزار 247 افغان شہری افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جبکہ 14 لاکھ 69 ہزار 522 افراد پی او آر کارڈ ہولڈرز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔