مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پریس فریڈم مارچ کل آیا وہ پْرامن طریقے سے واپس چلا گیا ہے،وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر

مظفرآباد، 18 اپریل(پی پی آئی)وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ جو پریس فریڈم مارچ کل آیا وہ پْرامن طریقے سے واپس چلا بھی گیا ہے، اے کے این ایس اور پریس فاؤنڈیشن نے معاملہ کو دانشمندی سے حل کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار نبھایا، حکومت نے مارچ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کیے، مذاکرات میں حکومت کی جانب سے ورکنگ جرنلسٹس کے مسائل کو بھی اٹھایا گیا تھا، حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی قیادت وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کی تھی، حکومت اے کے این ایس اور پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے معاملہ میں کردار ادا کرنے پر مشکور ہے، افضل بٹ ذمہ دار شخصیت ہیں، نا جانے انہوں نے اے کے این ایس کی تجاویز پر عمل کیوں نہ کیا، یہ بھی اچھا ہے کہ معاملہ عدالت میں چلا گیا، عدالتوں کا احترام مقدم ہے، پی ایف یو جے کی قیادت کو احتجاج سے قبل منانے کی ہر ممکن کوشش کی، صحافتی تنظیمیں حکومتی کاوشوں سے آگاہ ہیں، معاملہ کو مذاکرات سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ہم چاہتے تھے صحافت کے نام پر 5th جنریشن وار شروع نہ ہو، افضل بٹ کو ایک کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے آزادکشمیر میں ریاستی اور غیر ریاستی بحث کا خاتمہ کردیا، مارچ لے کر آنے والے چاہتے تھے کہ مارچ کو اسمبلی گیٹ پر ہی ٹھہرایا جائے تاکہ یہاں حکومت فورس کا استعمال کرے،امن ترجیح ہے، انتشار پھیلانے والوں کی ہر سازش کو رد کیا، قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی کوئی سازش برداشت نہیں کریں گے، کشمیریوں کا مملکت خداداد پاکستان سے رشتہ کمزور نہیں ہونے دیں گے، نظریہ کا مکمل پاسدار ہوں، آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی نہیں برتوں گا، امن و امان کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسیز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، عوام اور حکومت مل کر امن و امان کو بحال رکھنے کے لیے کردار ادا کریں گے، دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے پولیس نے بروقت کارروائی کی، جس پر آزاد کشمیر پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید آفاق حسین شاہ کی والدہ محترمہ کی وفات پر ان کے گھر جاکر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع پر وزراء   حکومت فیصل ممتاز راٹھور، نثار انصرابدالی، سردار عامر الطاف، سردار میر اکبر اور چوہدری قاسم مجید بھی موجود تھے، وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک اخبار کے مالک پر درج کروائی گئی ایف آئی آر کی دفعات قابل ضمانت تھیں، حکومت کی کاوشوں میں اے کے این ایس اور پریس فاؤنڈیشن نے بھرپور طریقے سے کردار ادا کیا، اب انتشار کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی کی بحث کو جنم نہیں لینے دیں گے، حکومت معاملہ کو افہام تفہیم سے حل کرنا چاہتی تھی، 70 لوگوں کے احتجاج کو ہزاروں لکھ کر ٹکرز چلائے گے اور پروپیگنڈہ کیا گیا، معاملہ کی سنگینی کا ادراک تھا اسی بدولت صحافتی تنظیموں کو حکومت نے لمحہ بہ لمحہ آن بورڈ رکھا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ چند دن پہلے ہونے والے کابینہ اجلاس میں وزرائے کرام کو امن و امان کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا تھا، اس کے تسلسل میں آج بھی سینئر منسٹر کرنل (ر) وقار احمد نور کی سربراہی میں وزراء نے تفصیلی پریس ٹاک بھی کی ہے، پاکستان کی مجموعی صورتحال سے آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کو علیٰحدہ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا، دہشتگردی کی ہر شکل کو رد کرنا ہوگا، آزاد کشمیر کی انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس کو آزاد کشمیر میں امن و امان قائم رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سجاد ریشم کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے قاتلوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، کل ایک ملزم کو لہتڑاڑ سے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ امن کو قائم رکھنے کے لیے اجتماعی کاوشوں کو بروئے کار لانا ہوگا، عوام کے تعاون سے ہی امن و امان کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جاسکتا ہے،حکومت افہام و تفہیم اور برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، خدشہ رہتا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر میں خرابی پیدا کرکے انتشار کو ہوا دے سکتا ہے، مارچ کرنے والے شرکاء کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کی گئی، حکومت نے آزادکشمیر کی روایات کے عین مطابق مارچ میں آنے والے شرکاء   سے انتہائی نرم لہجہ اپنایا، انہوں نے کہا کہ ہر مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت میں ایف آئی آر کا بھرپور دفاع کرے گی۔