اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا طالبان سے سزائے موت اور جسمانی سزاؤں کا فوری خاتمہ کرنے کا مطالبہ

جنیوا، 17اپریل (پی پی آئی) اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں عوامی پھانسیوں اور جسمانی سزاؤں کو فوراً بند کریں، کیونکہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتے ہیں۔یہ بیان 11 اپریل کو چار افراد کی عوامی پھانسی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا اعلان افغانستان کی عبوری سپریم کورٹ نے کیا تھا۔ یہ پھانسیاں قِصاص کے تحت صوبہ بادغیس (2)، فراہ (1) اور نمروز (1) میں دی گئیں۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک عوامی پھانسیوں کی رپورٹ شدہ تعداد کم از کم 10 ہو چکی ہے۔ماہرین نے ان پھانسیوں کو انسانی وقار پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ“عوامی پھانسیاں کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دی جا سکتیں، حتیٰ کہ مذہبی بنیادوں پر بھی نہیں۔ یہ بربریت کو معمول بنا دیتی ہیں، معاشرے کو تشدد کا عادی بناتی ہیں اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔”

انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ سزائے موت پر فوری پابندی عائد کرے تاکہ بالآخر اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ماہرین نے جسمانی سزاؤں، بالخصوص کوڑوں کی سزا پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 213 افراد (169 مرد اور 44 خواتین) کو جسمانی سزائیں دی جا چکی ہیں، جن میں سے 19 سزائیں صرف 11 اپریل کے بعد کے چند دنوں میں دی گئیں۔بیان میں ان خدشات کا بھی ذکر کیا گیا کہ جن افراد کو سزائیں دی جا رہی ہیں، اْن کی عمر اور ذہنی یا فکری صلاحیتوں کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا۔ ماہرین نے کہا کہ کسی بھی صورت میں ان بچوں کو جو جرم کے وقت 18 سال سے کم عمر ہوں یا ایسے افراد جو ذہنی یا نفسیاتی معذوری کے باعث اپنا دفاع نہیں کر سکتے، سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اس تناظر میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، عدالتی نظام تک رسائی اور خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے حقوق کی پامالی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا عدالتی نظام آزاد نہیں اور اس میں وہ بنیادی قانونی تحفظات موجود نہیں جو کسی منصفانہ عدالتی عمل کے لیے لازم ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کا نہ ہونا اور واضح قانونی نظام کی عدم موجودگی، خواتین، لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے عدالتی عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

ماہرین نے اپنے بیان میں زور دیا کہ طالبان فوری طور پر سزائے موت اور جسمانی سزائیں بند کریں، جو کہ تشدد یا غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتی ہیں، اور تمام قیدیوں کے حقوق اور وقار کا احترام یقینی بنائیں۔

Leave a comment