آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

امتحانات سے قبل اساتذہ اور طلباء کے مسائل حل کرنے کا سپلا کا مطالبہ

کراچی،29اپریل (پی پی آئی)کراچی ریجن کے صدر پروفیسر رسول بخش قاضی کی قیادت میں سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن  کے ایک وفد نے سالانہ امتحانات سے قبل اہم خدشات دور کرنے کے لیے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی (BIEK) کے نو تعینات چیئرمین غلام حسین سوہو سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران پروفیسر قاضی نے چیئرمین کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور اساتذہ کو زیر التواء ادائیگیوں اور امتحانی مراکز کو حتمی شکل دینے جیسے حل طلب مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ کے لیے کام کرنے کے ماحول کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خبردار کیا کہ دھمکیاں امتحانی سرگرمی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔وفد نے دھوکہ دہی، امتحانی مراکز میں موبائل فون کے استعمال اور امتحانات سے قبل پیپر لیک ہونے کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلباء کو گرمی سے متعلق مشکلات سے بچانے کے لیے امتحانی اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو روکنے پر زور دیا۔ چیئرمین غلام حسین سوہو نے تمام گزارشات سننے کے بعد وفد کو یقین دلایا کہ اساتذہ اور مراکز کے بقایاجات ایک ہفتے کے اندر کلیئر کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاوضے کی شرحوں پر نظرثانی کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ بورڈ سائبر کرائم ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مل کر پیپر لیک کرنے یا موبائل فون کے ذریعے دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کرے گا۔سیکورٹی کے حوالے سے چیئرمین نے اساتذہ اور طلباء کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور کہاکہ کے الیکٹر ک کو ایک خط بھیجا جائے گا جس میں امتحان کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی درخواست کی جائے گی۔وفد میں SPLA کی مرکزی نائب صدر پروفسر شبانہ افضل، پروفیسر زاہد لطیف، پروفیسر کنول مجتبیٰ، پروفیسر سید محمد حیدر، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمارہ مشتاق، پروفیسر سلطانہ سومرو، پروفیسر مزمل احسن، پروفیسر انور اور پروفیسر الماس نقوی شامل تھے۔