آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عید قرباں کے لیے کراچی کی مویشی دوست منڈی میں 52 ہزار سے زائد جانور پہنچ گئے

کراچی، 14مئی (پی پی آئی) عید قرباں کے لیے مویشیوں کی خرید و فروخت کا آغاز ہوچکا ہے اور مویشی دوست منڈی ناردرن بائی پاس پر جانوروں کی آمد کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ منڈی میں اب تک 52 ہزار سے زائد جانور پہنچ چکے ہیں اور یہ آمد17 اپریل سے جاری ہے۔ کراچی کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں اس وقت سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں کے بیوپاریوں کا رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رحیم یار خان، صادق آباد، نوشہرو فیروز، مورو اور حیدرآباد کے بیوپاری بھی اپنے مال مویشی کے ساتھ منڈی میں پہنچ چکے ہیں۔مویشی دوست منڈی کے ایڈمنسٹریٹر فیصل علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیوپاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے جنرل بلاک 2 بھی کھول دیا گیا ہے تاکہ تمام بیوپاریوں کو مناسب جگہ فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وی آئی پی، وی وی آئی پی اور سفائر بلاک میں بہترین جانوروں کی آمد نے ان بلاکس کو خاص طور پر مشہور کردیا ہے، جہاں خریداروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔رات کے وقت جگمگاتی ہوئی منڈی نے کراچی والوں کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کرلی ہے۔ فیصل علی نے کہا، “یہ منڈی کراچی کے لیے ایک اہم مقام بن چکی ہے اور رات کے وقت اس کی رونق میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔”بیوپاریوں کی سہولت کے لیے انتظامیہ نے ایڈمنسٹریٹر بلاک میں بھی اضافی انتظامات کیے ہیں جہاں بیوپاریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ فیصل علی نے کہا، “ہم دن رات بیوپاریوں کی خدمت میں حاضر ہیں اور اگر کسی کو کسی بھی قسم کی شکایت ہو تو فوری طور پر حل کے لیے تیار ہیں۔”مویشی دوست منڈی میں جانوروں کی آمد کا سلسلہ عیدالاضحی کے قریب تر ہونے کے ساتھ مزید تیز ہوگا۔ انتظامیہ اس بات کا ارادہ رکھتی ہے کہ جانوروں کی صحت کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ محفوظ خرید و فروخت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عید کے دن کراچی میں قربانی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔