پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں ویکسین اور ادویات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، سید مصطفیٰ کمال

کراچی، 15مئی (پی پی آئی)وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں ویکسین اور ادویات کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ملک کی درآمدات پر انحصار کم ہو اور صحت کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو کراچی میں منعقدہ “یونیسف-ڈبلیو ایچ او انڈسٹری کنسلٹیشن برائے مقامی پیداوارِ ویکسین و ادویات” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر یونیسف اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کا تعاون پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے قابلِ قدر ہے۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ مشاورتی اجلاس پاکستان کی صحت کے شعبے میں خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے ملک میں ویکسین اور ادویات کی مقامی سطح پر تیاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔انہوں نے حالیہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے باعث خام مال کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود انحصاری ناگزیر ہو چکی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت اس سمت میں اہم اقدامات کر رہی ہے اور ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) میں اصلاحات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوا سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی معیار اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔نجی شعبے کے کردار کو سراہتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس انقلابی تبدیلی کے معمار نجی ادارے ہی ہوں گے۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنے اندرونی صحت کے تقاضے پورے کر سکتا ہے بلکہ ادویات کی برآمدات کے حوالے سے ایک بڑا عالمی کھلاڑی بھی بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا انفراسٹرکچر اور جغرافیائی محل وقوع عالمی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کے زیرِ اہتمام دو روزہ صنعتی مشاورت میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ)، دوا ساز کمپنیاں، اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔