کراچی، 15مئی (پی پی آئی) امیر جماعت اسلامی سندھ، کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ سندھ سمیت پورے پاکستان کی لائف لائن ہے اور بھارت کو چاہیے کہ وہ پانی کو جنگی ہتھیار نہ بنائے۔کاشف سعید شیخ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور کارپوریٹ فارمنگ سے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ سندھ کی زمین پہلے ہی پانی کی کمی کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہے اور کوٹری ڈاؤن اسٹریم پانی نہ چھوڑنے سے ٹھٹھہ، سجاول، اور بدین اضلاع کی تقریباً 50 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کی نذر ہو چکی ہے۔ پانی کی قلت سے انسانی زندگی اور آبی حیات متاثر ہو رہی ہے اور سیکڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ بینک کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل کرنے یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں ہے۔ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کا متفق ہونا ضروری ہے۔ اس کے باوجود سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی یا اسے معطل کرنے کی دھمکی بھارت کی آبی دہشتگردی اور اعلان جنگ ہوگا۔کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ عالمی معاہدہ ہے جسے بھارت یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ بھارت کی طرف سے ماضی میں بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور پاکستانی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کرکے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کیا گیا، جو کہ عالمی قوانین اور معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارت پانی روک کر زرعی ملک پاکستان کو بنجر بنانا چاہتا ہے جو کہ آبی دہشتگردی اور اعلان جنگ ہے۔یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی ثالثی کی زیر نگرانی طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا نظام قائم کیا گیا۔
Next Post
بھارت نے حملہ کیا تو کشمیری عوام نے فوج کے ساتھ مل کر دفاع کیا: مظہر سعید شاہ
Thu May 15 , 2025
کراچی، 15مئی (پی پی آئی)وزیر اطلاعات آزاد جموں و کشمیر مظہر سعید شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو کشمیری عوام نے اپنے گھروں کو چھوڑنے کی بجائے فوج کے ساتھ مل کر دفاع کیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت کے فالس فلیگ […]
