پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کو اعلان جنگ سمجھا جائے: کاشف سعید شیخ

کراچی، 15مئی (پی پی آئی) امیر جماعت اسلامی سندھ، کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ سندھ سمیت پورے پاکستان کی لائف لائن ہے اور بھارت کو چاہیے کہ وہ پانی کو جنگی ہتھیار نہ بنائے۔کاشف سعید شیخ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور کارپوریٹ فارمنگ سے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ سندھ کی زمین پہلے ہی پانی کی کمی کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہے اور کوٹری ڈاؤن اسٹریم پانی نہ چھوڑنے سے ٹھٹھہ، سجاول، اور بدین اضلاع کی تقریباً 50 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کی نذر ہو چکی ہے۔ پانی کی قلت سے انسانی زندگی اور آبی حیات متاثر ہو رہی ہے اور سیکڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ بینک کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل کرنے یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں ہے۔ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کا متفق ہونا ضروری ہے۔ اس کے باوجود سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی یا اسے معطل کرنے کی دھمکی بھارت کی آبی دہشتگردی اور اعلان جنگ ہوگا۔کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ عالمی معاہدہ ہے جسے بھارت یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ بھارت کی طرف سے ماضی میں بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور پاکستانی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کرکے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کیا گیا، جو کہ عالمی قوانین اور معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارت پانی روک کر زرعی ملک پاکستان کو بنجر بنانا چاہتا ہے جو کہ آبی دہشتگردی اور اعلان جنگ ہے۔یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی ثالثی کی زیر نگرانی طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا نظام قائم کیا گیا۔