اسلام آباد، 23 مئی (پی پی آئی) پاکستان نے جمعرات کے روز بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “بے بنیاد، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزیراعظم نے راجستھان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایسے بیانات دیے جنہیں اسلام آباد نے علاقائی کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کا بیان “حقائق کو مسخ کرنے، غلط بیانی اور اشتعال انگیز طرزِ بیان” سے بھرپور ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی خودمختار ملک کو فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینا مہذب ریاستی طرزِ عمل کے منافی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ اسے دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، اور اسے “حقائق کے منافی اور گمراہ کن بیانیہ” قرار دیا۔پاکستان نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اس نے ہمیشہ انسداد دہشت گردی کے عالمی اقدامات میں تعمیری کردار ادا کیا ہے، جب کہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جن کی بین الاقوامی ادارے بھی توثیق کر چکے ہیں۔اسلام آباد نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ “اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ طرز عمل” ترک کرے اور خطے میں امن کے لیے سنجیدگی اور سفارت کاری کا راستہ اپنائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو “افسانوی بیانیے اور جنگی ماحول پیدا کرنے کے بجائے، مذاکرات کے ذریعے مسائل کے پرامن حل” کی طرف آنا چاہیے۔پاکستان نے اپنی پرامن بقائے باہمی کی پالیسی دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا “منہ توڑ اور مؤثر جواب” دیا جائے گا، اور ماضی کے واقعات کو اس عزم کی مثال قرار دیا۔بیان کے اختتام پر پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے “جارحانہ طرز عمل اور نفرت انگیز بیانیے” کا سنجیدگی سے نوٹس لے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف باہمی احترام، مکالمے اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
Next Post
پاکستان اور ترکی کا اپنے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم قدم
Fri May 23 , 2025
اسلام آباد، 23 مئی (پی پی آئی)پاکستان اور ترکی نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جو توانائی اور معدنیات کے تعاون پر مرکوز ہے۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان میں ترکی کے سفیر عرفان نذیروغلو سے ملاقات […]
