اسلام آباد، 06 جون (پی پی آئی) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
آصف کے تبصرے بھارت کے ساتھ ایک کامیاب جنگ کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کو مضبوط کیا ہے۔
وزیر نے بیان کیا کہ جنگ کے حل نے کشمیر کے مباحثے کو تقویت دی ہے، جس سے یہ ایک زیادہ فعال بین الاقوامی تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ آصف کے ریمارکس دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو نمایاں کرتے ہیں، اس معاہدے کی متنازعہ معطلی پر روشنی ڈالتے ہیں جس نے دہائیوں سے پانی کی تقسیم کے حقوق کو منظم کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران، وزیر دفاع نے کشمیر کی صورتحال کو حل کرنے کے لئے پاکستان کے عزم کو دہرایا، جس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ حالیہ تنازعے کے بعد اس نے رفتار حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی معطلی صرف ایک دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم بین الاقوامی تشویش ہے، جو عالمی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی، جو تاریخی طور پر دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا انتظام کرنے والا ایک اہم معاہدہ ہے، پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں ممکنہ تنازعہ کا نقطہ نظر ہے۔ آصف کے بیانات ایسے تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
