سکھر، 21 جون (پی پی آئی): سکھر میں ہفتے کے روز بجلی کے بقایا جات کے تنازعے پر دکانداروں کے ساتھ تصادم کے دوران سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کا سپرنٹنڈنٹ ہلاک اور ایک ملازم زخمی ہوگیا۔
یہ واقعہ گھنٹہ گھر چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب سیپکو کی ٹیم نے بقایا جات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کی کوشش کی۔ دکانداروں اور سیپکو اہلکاروں کے درمیان اختلاف جلد ہی تشدد میں تبدیل ہوگیا، جس میں مبینہ طور پر اینٹیں، پتھر اور تیز دھار آلے استعمال کیے گئے۔ لائن سپرنٹنڈنٹ فہیم سمیجو موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ملازم ساجد محمود زخمی ہو گیا-
پولیس نے سمیجو کی لاش کو سکھر سول ہسپتال منتقل کردیا، ۔ سیپکو کے کارکنان بعد ازاں ہسپتال میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا، انہوں نے دکاندار وںپر الزام لگایا کہ اس نے بجلی منقطع کرنے پر سیپکو کی ٹیم پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سمیجو ہلاک اور محمود زخمی ہوگئے۔ وہ قریشی کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تاہم، دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ سیپکو اہلکار رشوت طلب کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر غیر قانونی کٹوتیاں بند کردی جائیں تو وہ اپنے واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ سیپکو کی ٹیم نے پہلے جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے
